Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

2.962 ٹریلین روپے کی ریکوری ، نیب نے 2026 کی پہلی سہ ماہی میں شاندار کارکردگی کی بنیاد رکھ دی

قومی احتساب بیورو (NAB) نے اصلاحات اور ترجیحی بنیادوں پر کام کرتے ہوئے سال 2026 کا آغاز انتہائی مضبوط اور مؤثر کارکردگی سے کیا ہے۔ سال 2026 کے پہلے تین مہینوں کے دوران نیب نے مجموعی طور پر 2,962 ارب روپے (2.962 ٹریلین روپے) کی ریکوری کی ہے، جو کہ 2025 کی پہلی سہ ماہی میں ہونے والی 91.01 ارب روپے کی ریکوری کے مقابلے میں 33 گنا زیادہ ہے۔

یہ غیر معمولی اضافہ ادارے کی بہتر کارکردگی اور صلاحیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
نیب لاہور اور ملتان نے اپنی مشترکہ کاوشوں سے  23.33 ارب روپے مالیت کی 4,034 ایکڑ سرکاری زمین واگزار کرائی، جبکہ نیب کراچی اور سکھر نے 2,891.38 ارب روپے مالیت کی 54,387 ایکڑ سرکاری زمین واگزار کروائی ۔ اسی عرصے میں نیب بلوچستان نے بھی 36.54 ارب روپے مالیت کی 51,577 ایکڑ سرکاری زمین  سرکاری تحویل میں واپس کی۔

ان سرکاری زمینوں کے علاوہ نیب نے پلی بارگین، نیلامی اور عدالتی جرمانوں کی مد میں 11.085 ارب روپے کی براہِ راست ریکوری بھی کی۔ مزید برآں، عوام کو دھوکہ دہی کے کیسز میں 6,475 متاثرین کو 1.78 ارب روپے کی لوٹی ہوئی  رقم واپس کی گئی۔ یہ شاندار کارکردگی نیب کی اعلیٰ شعبوں پر توجہ، بہتر کیس مینجمنٹ اور محکموں کے درمیان مضبوط کوآرڈینیشن کی عکاسی کرتی ہے۔

اس سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے نیب نے صوبائی حکومتوں کے تعاون سے مزید بڑی ریکوریز کا سراغ لگایا ہے۔ پنجاب میں 4.37 ٹریلین روپے مالیت کی تقریباً 9 لاکھ ایکڑ سرکاری زمین جبکہ سندھ میں 10.96 ٹریلین روپے مالیت کی 452,968 ایکڑ زمین کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ اس عمل کو تیز بنانے کے لیے پنجاب اور سندھ کی حکومتوں نے سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو کی نگرانی میں خصوصی ٹاسک فورسز بنا دی گئی  ہیں تاکہ سرکاری زمینوں کی واپسی اور ان کے قانونی تصفیے کو یقینی بنایا جا سکے۔

برینٹ خام تیل کی قیمت 111 ڈالرز فی بیرل تک پہنچ گئی: ایرانی میڈیا

صوبوں کی یہ مجموعی پیش رفت اثاثوں کی واپسی کے لیے ایک ہمہ گیر رائے عامہ  کو ظاہر کرتی ہے۔ ان جاری اقدامات سے شفافیت اور بہتر گورننس میں مدد ملے گی اور عوامی اعتماد میں اضافہ ہوگا۔ نیب غیر جانبداری اور شفافیت کے ساتھ احتساب جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہے اور اس بات کا اعادہ کرتا ہے کہ عوامی اثاثوں کی حفاظت کی جائے گی اور کرپشن کے ذریعے ہتھیا ئی گئی رقم اور سرکاری زمینیں ہر صورت قومی خزانے کو واپس لوٹائی جائیں گی۔

یہ بھی پڑھیں