Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

پیٹرول کی قیمت میں اضافے کی وجہ لیوی ہے، وزیر پیٹرولیم

وزیرپٹرولیم علی پرویز ملک(Ali Pervez Malik) نے کہا ہے کہ پاکستان میں پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ پیٹرولیم لیوی ہے، جس میں اضافہ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت کیا گیا۔

سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے پیٹرولیم کا اجلاس سینیٹر عمر فاروق کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں جنگی صورتحال کے بعد پیٹرولیم مصنوعات کی دستیابی اور حکومتی اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

وفاقی وزیر پیٹرولیم نے اجلاس کو بتایا کہ جنگ کے دوران وزیراعظم کی ہدایت پر پیٹرولیم مصنوعات، ایل این جی اور ایل پی جی کے ذخائر کی نگرانی کے لیے خصوصی کمیٹی قائم کی گئی تھی، جس کی بدولت ملک میں ایندھن کی قلت پیدا نہیں ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب، قطر، ابوظہبی اور عمان نے متبادل راستوں کے ذریعے سپلائی بحال رکھنے میں تعاون کیا، جبکہ قطر سے ایل این جی کی فراہمی بھی دوبارہ شروع ہو چکی ہے۔

علی پرویز ملک کے مطابق عالمی منڈی میں پیٹرول اور ڈیزل پر پریمیم 50 ڈالر تک بڑھنے سے مقامی قیمتوں پر دباؤ آیا۔ انہوں نے بتایا کہ عالمی سطح پر ڈیزل کی قیمت 110 ڈالر سے بڑھ کر 285 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی، جبکہ دبئی خام تیل کی قیمت 97 ڈالر سے بڑھ کر 170 ڈالر فی بیرل تک ریکارڈ کی گئی۔

انہوں نے واضح کیا کہ حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ بجٹ مذاکرات کے دوران 80 روپے فی لیٹر لیوی پر اتفاق کیا تھا، تاہم بعد میں یہ ہدف بڑھ کر 160 روپے فی لیٹر تک پہنچ گیا۔

ترک فضائی کمپنی کے مسافر طیارے میں لینڈنگ کے بعدآگ لگ گئی ، ایئرپورٹ بند

بریفنگ میں بتایا گیا کہ یکم مارچ کو ملک میں خام تیل کا ذخیرہ 4 لاکھ 36 ہزار ٹن تھا، جو اب بڑھ کر 5 لاکھ 15 ہزار ٹن ہو چکا ہے، جبکہ پیٹرول اور ڈیزل کے ذخائر میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔

اجلاس کے دوران سیف اللہ ابڑو نے سوال اٹھایا کہ پرانے سٹاک پر فوری طور پر قیمتوں میں اضافہ کیوں کیا گیا اور آیا لیوی میں اضافے سے کمپنیوں کو فائدہ پہنچایا گیا۔ کمیٹی اراکین نے ملک میں کام کرنے والی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے آڈٹ کا مطالبہ بھی کیا۔

وفاقی وزیر پیٹرولیم نے کہا کہ حکومت بحران کے بعد پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو ڈی ریگولیٹ کرنے پر غور کر رہی ہے، تاہم ناجائز منافع خوری کی کسی صورت اجازت نہیں دی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں