Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

پٹرول انویسٹمنٹ سکینڈل ، مرکزی ملزم عادل اکرام سے متعلق حیران کن تفصیلات سامنے آگئیں

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) 12 ارب روپے کے مبینہ پٹرول انویسٹمنٹ سکینڈل میں اہم پیش رفت سامنے آنے کے بعد کیس نے نیا رخ اختیار کر لیا ہے، جبکہ مرکزی ملزم عادل اکرام (Aadil Ikraam)سے متعلق کئی حیران کن انکشافات نے قانونی اور انتظامی حلقوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ ذرائع کے مطابق تحقیقات کا دائرہ اب نہ صرف مختلف شہروں تک پھیل چکا ہے بلکہ متعدد اہم شخصیات، سرمایہ کاری نیٹ ورکس اور مبینہ فرنٹ مینوں کے کردار پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مرکزی ملزم عادل اکرام اس سے قبل اڈیالہ جیل میں جوڈیشل ریمانڈ پر تھا، تاہم بعد ازاں خیبرپختونخوا پولیس اسے ایک اور مقدمے میں پشاور منتقل کر کے لے گئی۔ اطلاعات کے مطابق عادل اکرام کو مبینہ طور پر باؤنس چیک کیس میں منتقل کیا گیا جبکہ اس سے پہلے اسے اڈیالہ جیل میں بی کلاس کی سہولت بھی دی گئی تھی۔

ذرائع کے مطابق قانونی حلقوں میں اس پورے عمل پر کئی سوالات اٹھ رہے ہیں، کیونکہ حیران کن طور پر ملزم گزشتہ دو ہفتوں سے مبینہ جسمانی تحویل میں ہے۔ بعض ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ دوران تحویل عادل اکرام پر دباؤ ڈالنے اور مبینہ تشدد کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس تمام معاملے میں بعض بااثر حلقوں کی مبینہ دلچسپی بھی زیر بحث ہے۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ کچھ عناصر ملزم کو اہم نام ظاہر کرنے سے روکنا چاہتے ہیں کیونکہ عادل اکرام مبینہ طور پر کئی اہم شخصیات، سرمایہ کاروں اور مالیاتی نیٹ ورکس سے متعلق حساس معلومات رکھتا ہے۔

تحقیقات سے جڑے ذرائع کے مطابق اسکینڈل میں راولپنڈی اور اسلام آباد کے بعض افسران کے نام بھی زیر گردش ہیں۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ان افراد نے فرنٹ مینوں کے ذریعے سرمایہ کاری کر رکھی تھی جبکہ سرمایہ کاری میں استعمال ہونے والی رقوم کے ذرائع بھی اب تفتیش کا حصہ بن چکے ہیں۔

دوسری جانب تحقیقات میں ایک بڑا انکشاف یہ بھی سامنے آیا ہے کہ مبینہ فراڈ نیٹ ورک نے مختلف پٹرول پمپس کو سرمایہ کاری کے “پروجیکٹس” کے طور پر استعمال کیا۔ ذرائع کے مطابق متاثرین کو بڑے اور مصروف پٹرول پمپس دکھا کر یقین دلایا جاتا تھا کہ انہی کاروباری مراکز سے کروڑوں روپے منافع حاصل کیا جا رہا ہے۔

اے بی این نیوز نے مبینہ نیٹ ورک سے جڑے کئی پٹرول پمپس کا سراغ لگانے کا دعویٰ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق گلبرگ گرین میں واقع ایک انٹرنیشنل کمپنی کے پٹرول پمپ کو بطور مثال پیش کیا جاتا تھا جبکہ راولپنڈی کے پرانے ائیرپورٹ کے سامنے قائم پٹرول پمپ کا نام بھی تحقیقات میں سامنے آیا ہے۔

ہنزہ: گلگت بلتستان اسمبلی کے حلقہ GBA-06 ہنزہ سے 8 امیدوار دستبردار

اسی طرح ائیرپورٹ ہاؤسنگ سوسائٹی کے قریب موجود پٹرول پمپ کو بھی مبینہ سرمایہ کاری نیٹ ورک کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔ متاثرین کے مطابق بحریہ ٹاؤن، ڈی ایچ اے ٹو، ڈی ایچ اے فائیو، ترامڑی اور پولیس لائنز راولپنڈی میں موجود مختلف پٹرول پمپس کو بھی سرمایہ کاری اسکیم کا حصہ ظاہر کیا جاتا رہا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ سرمایہ کاروں کو غیر معمولی منافع کی کہانیاں سنا کر قائل کیا جاتا تھا۔ مبینہ طور پر پٹرول ذخیرہ کرنے اور قیمتوں میں اضافے سے بھاری کمائی کے دعوے کیے جاتے رہے، جبکہ اسی “منافع ماڈل” کے ذریعے اربوں روپے کی سرمایہ کاری حاصل کی گئی۔

متاثرین کے مطابق ابتدا میں انہیں باقاعدگی سے منافع دیا جاتا رہا تاکہ اعتماد قائم رہے، تاہم بعد ازاں اچانک ادائیگیاں رکنے پر پورا نیٹ ورک مشکوک بن گیا اور متعدد افراد نے قانونی کارروائی کے لیے رابطے شروع کر دیے۔

ذرائع کے مطابق مرکزی ملزم عادل اکرام کے خلاف مختلف شہروں میں متعدد مقدمات پہلے ہی درج ہیں۔ بعض متاثرین نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ انہیں خاموش رہنے کے لیے دباؤ اور دھمکیوں کا سامنا ہے، جبکہ اطلاعات ہیں کہ کچھ افراد اپنے اثاثے فرنٹ مینوں کے نام منتقل کرنے میں مصروف ہیں۔

تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ پٹرول پمپس کے نام پر قائم 20 سے زائد کمپنیوں کا ریکارڈ کھنگالا جا رہا ہے۔ گلبرگ فارم ہاؤس، ایف سیون میں موجود پراپرٹی، نجی ہاؤسنگ سوسائٹیوں میں سرمایہ کاری، بیرون ملک رقوم کی منتقلی اور ممکنہ منی لانڈرنگ کے پہلو بھی تفتیش کا حصہ بن چکے ہیں۔

ذرائع کے مطابق اسلام آباد کے بلیو ایریا میں قائم ایک منی چینجر کا نام بھی تحقیقات میں زیر غور ہے۔ 12 ارب روپے کے اس مبینہ مالیاتی سکینڈل نے وفاقی دارالحکومت کے انتظامی اور کاروباری حلقوں میں شدید بے چینی پیدا کر دی ہے جبکہ متاثرین شفاف تحقیقات اور رقوم کی واپسی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں