سابق اراکین پارلیمنٹ اور ان کے اہل خانہ کو بلیو پاسپورٹ جاری کرنے کی بلیو پاسپورٹ تجویز پر وفاقی وزارت داخلہ اور سینیٹ کے درمیان اختلافات سامنے آگئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق وزارت داخلہ اس تجویز کی مخالفت کر رہی ہے، جبکہ معاملہ اب سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پارلیمانی امور میں زیر غور آئے گا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کا اجلاس منگل کو طلب کر لیا گیا ہے، جس میں سابق اراکین پارلیمنٹ کو بلیو پاسپورٹ جاری کرنے سے متعلق ایک نکاتی ایجنڈے پر غور کیا جائے گا۔ اجلاس کی صدارت سینیٹر ہمایوں مہمند کریں گے۔
رپورٹس کے مطابق سینیٹر عبدالقادر کی جانب سے ایک ترمیمی بل پیش کیا گیا ہے، جس میں اراکین پارلیمنٹ کی تنخواہوں اور مراعات سے متعلق ایکٹ میں تبدیلی کی تجویز دی گئی ہے۔ مجوزہ بل کے تحت سابق اراکین پارلیمنٹ، ان کے شریک حیات اور بچوں کو بھی بلیو پاسپورٹ دینے کی سفارش شامل ہے۔
بل کے اغراض و مقاصد میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ریٹائرڈ وفاقی سیکریٹریز کو پہلے ہی بلیو پاسپورٹ کی سہولت حاصل ہے، اس لیے پارلیمنٹ میں خدمات انجام دینے والے افراد کو بھی مساوی سہولت دی جانی چاہیے۔
تاہم بلیو پاسپورٹ تجویز پر وزارت داخلہ نے سخت مؤقف اختیار کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق حالیہ دنوں میں اٹلی میں بلیو پاسپورٹ پر سیاسی پناہ سے متعلق سامنے آنے والے معاملے کے بعد اس تجویز کو مزید حساس سمجھا جا رہا ہے۔
سیاسی و قانونی حلقوں میں اس معاملے پر بحث جاری ہے جبکہ آئندہ اجلاس میں اس حوالے سے اہم پیش رفت متوقع ہے۔

