Search
Close this search box.
پیر ,08 جون ,2026ء

آئی ایم ایف بجٹ ٹیکس، عوام پر اضافی مالی بوجھ ڈالنے کی تیاری

آئی ایم ایف بجٹ ٹیکس

آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ سے قبل عوام کیلئے تشویشناک خبریں سامنے آگئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف بجٹ ٹیکس اقدامات کے تحت حکومت نے 860 ارب روپے کے اضافی ٹیکس عائد کرنے کی یقین دہانی کرا دی ہے، جبکہ پیٹرول اور ڈیزل پر دی جانے والی سبسڈی ختم کرنے کا بھی اصولی فیصلہ کیا گیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق وفاقی بجٹ کا مجموعی حجم 17 ہزار ارب روپے سے زائد رکھنے کی تجویز زیر غور ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کی جانب سے حکومت پر اضافی محصولات اکٹھے کرنے کیلئے سخت دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق حکومت آئندہ مالی سال میں 15 ہزار 267 ارب روپے ٹیکس وصولی کا ہدف مقرر کر سکتی ہے، جبکہ پہلے 6 ماہ میں 7 ہزار ارب روپے جمع کرنے کا پلان تیار کیا جا رہا ہے۔

رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ آئی ایم ایف بجٹ ٹیکس پالیسی کے باعث عوام پر 430 ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑنے کا امکان ہے۔ اس میں 215 ارب روپے نئے ٹیکسز جبکہ باقی رقم سخت نگرانی اور آڈٹ اقدامات کے ذریعے حاصل کیے جانے کی توقع ہے۔

ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ پیٹرولیم لیوی کی مد میں 1727 ارب روپے وصول کرنے کا ہدف مقرر کیا جا سکتا ہے، جو رواں مالی سال کے مقابلے میں 260 ارب روپے زیادہ ہوگا۔

حکومت نے آئی ایم ایف کو سرکاری اداروں کی نجکاری تیز کرنے کی یقین دہانی بھی کرا دی ہے۔ اطلاعات کے مطابق آئیسکو، گیپکو اور فیسکو کے شیئرز 2027 کے آغاز میں فروخت کیے جا سکتے ہیں جبکہ کئی سرکاری اداروں کی نجکاری پر کام جاری ہے۔

معاشی ماہرین کے مطابق اگر نئے ٹیکسز اور سبسڈی کے خاتمے کے فیصلے نافذ ہوئے تو مہنگائی اور عوامی مشکلات میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں