Search
Close this search box.
اتوار ,07 جون ,2026ء

28ویں آئینی ترمیم سے متعلق افواہیں، حکومت نے اہم وضاحت کردی

28ویں آئینی ترمیم

وفاقی حکومت نے 28ویں آئینی ترمیم کے تحت ووٹ ڈالنے کی عمر 25 سال کرنے سے متعلق گردش کرنے والی خبروں کو مسترد کر دیا ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا اور مختلف حلقوں میں بے شمار افواہیں گردش کر رہی ہیں، اس لیے ہر غیر مصدقہ خبر پر ردعمل دینا ضروری نہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ مبینہ ترمیمی بل میں ووٹنگ کی عمر 25 سال کرنے سے متعلق کوئی شق شامل نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میڈیا میں سامنے آنے والی اطلاعات حقیقت پر مبنی نہیں۔

یہ وضاحت اس وقت سامنے آئی جب وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ نے ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کے دوران کہا تھا کہ مجوزہ 28ویں آئینی ترمیم سے متعلق مختلف تجاویز زیر غور آ سکتی ہیں، جن میں ووٹنگ کی عمر بڑھانے کا معاملہ بھی شامل تھا۔

رانا ثنااللہ کے بیان کے بعد سیاسی اور سماجی حلقوں میں شدید ردعمل دیکھنے میں آیا، جبکہ اپوزیشن جماعتوں اور سول سوسائٹی نے ایسی کسی بھی تجویز پر تنقید کی۔

دوسری جانب وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھی نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کے اندر ایسی کسی آئینی ترمیم پر کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ کابینہ میں بھی اس حوالے سے کوئی بحث زیر غور نہیں آئی۔

وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے بھی حالیہ دنوں میں واضح کیا تھا کہ حکومت اس وقت کسی نئی آئینی ترمیم لانے کی تیاری نہیں کر رہی اور کسی بھی آئینی تبدیلی کیلئے اتحادی جماعتوں سے مشاورت ضروری ہوگی۔

ادھر بلاول بھٹو زرداری نے بھی کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کو کسی نئی آئینی ترمیم سے متعلق اعتماد میں نہیں لیا گیا اور اتحادی جماعتوں کی حمایت کے بغیر ایسی کوئی قانون سازی ممکن نہیں۔

یہ بھی پڑھیں