مظفرآباد: آزاد کشمیر حملہ کے نتیجے میں 4 سیکیورٹی اہلکار شہید جبکہ 20 سے زائد اہلکار زخمی ہو گئے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق مسلح افراد کی جانب سے قانون نافذ کرنے والے اداروں پر فائرنگ کی گئی جس کے بعد علاقے میں شدید کشیدگی پیدا ہو گئی۔
حکام کے مطابق شہید ہونے والوں میں آزاد کشمیر پولیس کے 3 اہلکار اور ایک وفاقی کانسٹیبلری اہلکار شامل ہیں۔ واقعے میں زخمی ہونے والے اہلکاروں کو فوری طور پر قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا جہاں ان کا علاج جاری ہے۔
سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ حملے میں استعمال ہونے والے طریقہ کار اور واقعاتی شواہد سے بظاہر یہ کارروائی پہلے سے منصوبہ بندی کے تحت کی گئی۔ حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ واقعے میں ملوث عناصر کی شناخت اور گرفتاری کے لیے کارروائیاں شروع کر دی گئی ہیں۔
آزاد کشمیر حملہ کے بعد سیکیورٹی اداروں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے جبکہ مختلف علاقوں میں اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے رہے ہیں۔
حکومتی حکام نے واضح کیا ہے کہ حملے میں ملوث منصوبہ سازوں، سہولت کاروں اور حملہ آوروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ ریاست کی عملداری کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور کسی کو بھی تشدد کے ذریعے قانون کو چیلنج کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
واقعے کے بعد علاقے میں سیکیورٹی اقدامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں جبکہ تحقیقات کا عمل جاری ہے۔

