اسلام آباد: بی آئی ایس پی مستحقین کو “بھکاری” قرار دیے جانے کے بیان پر چیئرپرسن بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) سینیٹر روبینہ خالد نے شدید ردعمل دیتے ہوئے متعلقہ افراد سے معافی مانگنے کا مطالبہ کر دیا۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے روبینہ خالد نے کہا کہ غریب اور محنت کش خاندانوں کی عزتِ نفس مجروح کرنا کسی صورت قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی کے پاس کوئی الزام یا تنقید ہے تو اسے شواہد کے ساتھ پیش کرنا چاہیے، لیکن مستحق خاندانوں کی تضحیک کا کسی کو حق حاصل نہیں۔
روبینہ خالد کا کہنا تھا کہ بی آئی ایس پی دنیا کے بڑے سماجی تحفظ اور غربت کے خاتمے کے پروگراموں میں شمار ہوتا ہے اور اس سے ملک بھر کے ایک کروڑ سے زائد مستحق خاندان مستفید ہو رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بعض حلقے سیاسی مقاصد کے لیے پروگرام کے بارے میں غلط معلومات پھیلا رہے ہیں، حالانکہ دنیا بھر کے ممالک اور بین الاقوامی ادارے بی آئی ایس پی کے ماڈل کا مطالعہ کر رہے ہیں۔
چیئرپرسن بی آئی ایس پی نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ پروگرام لوگوں کو بھکاری بناتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بی آئی ایس پی کم آمدنی والے خاندانوں کو سہارا فراہم کرتا ہے تاکہ انہیں دوسروں کے سامنے ہاتھ نہ پھیلانا پڑے۔
انہوں نے کہا کہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ کمزور طبقات کی عزتِ نفس کا تحفظ کرے۔ بی آئی ایس پی لوگوں کو بھکاری نہیں بناتا بلکہ انہیں معاشی مشکلات کے باوجود باوقار زندگی گزارنے میں مدد دیتا ہے۔
روبینہ خالد نے مزید بتایا کہ جولائی 2026 سے بی آئی ایس پی کی تمام ادائیگیاں ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے کی جائیں گی، جس سے شفافیت میں اضافہ ہوگا، غیر قانونی کٹوتیوں کا خاتمہ ہوگا اور مستحق خواتین کی مالی خودمختاری مزید مضبوط ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ اگر کسی کے پاس پروگرام کو بہتر بنانے کے لیے تجاویز ہیں تو بی آئی ایس پی ان کا خیر مقدم کرے گا اور اصلاحات کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔

