گلگت: گلگت بلتستان کا اگلا وزیراعلیٰ کون ہوگا؟ 2026 کے گلگت بلتستان اسمبلی انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی کے سب سے بڑی جماعت بن کر ابھرنے کے بعد یہی سوال سیاسی حلقوں میں سب سے زیادہ زیر بحث ہے۔
فارم 47 کے مطابق پیپلز پارٹی کی نمایاں کامیابی کے بعد وزارتِ اعلیٰ کے لیے کئی مضبوط امیدواروں کے نام سامنے آ رہے ہیں۔ سیاسی مبصرین اور کارکنوں کی نظریں اب پارٹی کی مرکزی قیادت کے فیصلے پر مرکوز ہیں۔
وزارتِ اعلیٰ کے لیے سب سے نمایاں نام حلقہ جی بی اے 1 گلگت 1 سے کامیاب ہونے والے پاکستان پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کے صدر امجد حسین ایڈووکیٹ کا ہے۔ انہوں نے نہ صرف اپنی نشست جیتی بلکہ صوبے بھر میں انتخابی مہم کی قیادت بھی کی۔ پارٹی کو سب سے بڑی سیاسی قوت بنانے میں ان کے کردار کو اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب حلقہ جی بی اے 9 سکردو 3 سے کامیاب ہونے والے سابق اسپیکر فدا محمد ناشاد بھی وزارتِ اعلیٰ کی دوڑ میں شامل ہیں۔ فدا محمد ناشاد 2015 سے 2020 تک گلگت بلتستان اسمبلی کے اسپیکر رہ چکے ہیں اور پارلیمانی امور میں وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔
گلگت بلتستان کا اگلا وزیراعلیٰ بننے کے ممکنہ امیدواروں میں سید توقیر مہدی کا نام بھی شامل ہے، جو حلقہ جی بی اے 8 سکردو 2 سے کامیاب ہوئے ہیں۔ پارٹی کے اندر ان کے اثر و رسوخ اور اعلیٰ قیادت سے روابط کو اہم سمجھا جا رہا ہے۔
نگر سے کامیاب ہونے والے محمد علی اختر بھی ایک ممکنہ امیدوار کے طور پر زیر بحث ہیں۔ پارٹی کے دیرینہ اور وفادار کارکن ہونے کی وجہ سے بعض حلقے ان کے حق میں رائے رکھتے ہیں۔
اسی طرح غذر سے منتخب ہونے والے سید جلال علی شاہ کا نام بھی وزارتِ اعلیٰ کے امیدواروں میں لیا جا رہا ہے۔ وہ مرحوم پیر کرم علی شاہ کے صاحبزادے ہیں اور پارٹی کے سینئر رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اس وقت امجد حسین ایڈووکیٹ وزارتِ اعلیٰ کی دوڑ میں سب سے مضبوط امیدوار دکھائی دیتے ہیں۔ ان کی تنظیمی گرفت، انتخابی کامیابی اور صوبائی سطح پر قیادت انہیں دیگر امیدواروں پر برتری فراہم کر رہی ہے۔
تاہم حتمی فیصلہ پاکستان پیپلز پارٹی کی مرکزی قیادت، نومنتخب اراکین اسمبلی اور پارٹی کی اعلیٰ سطحی مشاورت کے بعد متوقع ہے۔ اس وقت گلگت بلتستان کی سیاست میں سب سے زیادہ توجہ وزیراعلیٰ ہاؤس اور اس کے ممکنہ مکین پر مرکوز ہے۔
اب نظریں اسلام آباد میں ہونے والی مشاورت اور پارٹی قیادت کے آئندہ فیصلوں پر ہیں کہ وزارتِ اعلیٰ کا تاج گلگت کو ملے گا، بلتستان کو یا پھر کوئی نیا سیاسی سرپرائز سامنے آئے گا۔

