مظفرآباد: شوکت نواز میر آڈیو لیک کے بعد آزاد جموں و کشمیر کی سیاسی فضا میں ایک نئی بحث نے جنم لے لیا ہے۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک مبینہ آڈیو کال میں کالعدم قرار دی گئی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے بعض رہنماؤں کے درمیان گفتگو ہونے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے، جس پر مختلف حلقوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔
منظر عام پر آنے والی مبینہ آڈیو میں شوکت نواز میر اور خواجہ مہران کے درمیان گفتگو سنائی دینے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ آڈیو کے حوالے سے یہ مؤقف اختیار کیا جا رہا ہے کہ بعض مقامات پر احتجاجی سرگرمیوں اور سکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
تاہم آڈیو کی آزادانہ طور پر تصدیق تاحال سامنے نہیں آ سکی اور نہ ہی متعلقہ اداروں کی جانب سے اس کی حتمی فرانزک رپورٹ جاری کی گئی ہے۔ اس کے باوجود سیاسی اور سماجی حلقوں میں اس معاملے پر بحث جاری ہے۔
ماہرین اور بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر آڈیو مستند ثابت ہوتی ہے تو اس سے کئی اہم سوالات جنم لے سکتے ہیں۔ دوسری جانب بعض حلقوں کا مؤقف ہے کہ کسی بھی نتیجے پر پہنچنے سے قبل مکمل تحقیقات اور شواہد کا انتظار کیا جانا چاہیے۔
یاد رہے کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے حوالے سے گزشتہ کچھ عرصے سے مختلف سیاسی اور انتظامی سطحوں پر بحث جاری ہے۔ حالیہ مبینہ آڈیو لیک کے بعد یہ معاملہ ایک مرتبہ پھر عوامی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق آئندہ چند روز میں متعلقہ اداروں کی جانب سے سامنے آنے والی معلومات اس معاملے کی سمت کا تعین کرنے میں اہم کردار ادا کریں گی۔ شوکت نواز میر آڈیو لیک کے حوالے سے سرکاری سطح پر کسی حتمی مؤقف یا فرانزک تصدیق کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

