اسلام آباد:(رضوان عباسی ) پاکستان میں وفاقی حکومت کا قرضہ ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق اپریل 2026 تک وفاقی حکومت کا مجموعی قرضہ 81 ہزار 930 ارب روپے تک جا پہنچا، جس کے بعد مالیاتی نظم و ضبط اور قرضوں کے پائیدار انتظام سے متعلق نئی بحث شروع ہوگئی ہے۔
دستاویزات کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران وفاقی حکومت کا قرضہ 6 ہزار 994 ارب روپے بڑھا۔ صرف اپریل 2026 کے دوران قرضوں میں 1 ہزار 406 ارب روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ رواں مالی سال کے ابتدائی 10 ماہ میں مجموعی قرضے میں نمایاں اضافہ سامنے آیا۔
اعداد و شمار کے مطابق وفاقی حکومت کا قرضہ اندرونی اور بیرونی دونوں سطحوں پر بڑھا ہے۔ اپریل 2026 تک ملکی یا اندرونی قرضوں کا حجم 58 ہزار 89 ارب روپے تک پہنچ گیا، جو ایک سال قبل کے مقابلے میں 5 ہزار 566 ارب روپے زیادہ ہے۔
اسی طرح بیرونی قرضوں میں بھی اضافہ دیکھا گیا۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق بیرونی قرضہ 1 ہزار 428 ارب روپے بڑھنے کے بعد 23 ہزار 841 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے۔
مالیاتی اعداد و شمار کے مطابق مارچ 2026 میں مجموعی وفاقی قرضہ 80 ہزار 524 ارب روپے تھا، جبکہ جون 2025 میں یہ حجم 77 ہزار 888 ارب روپے ریکارڈ کیا گیا تھا۔ اپریل 2025 میں مجموعی قرضہ 74 ہزار 936 ارب روپے تھا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ گزشتہ ایک سال کے دوران قرضوں میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔
ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ قرضوں کے بڑھتے ہوئے حجم سے حکومتی اخراجات پر دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے، خصوصاً قرضوں کی واپسی اور سود کی ادائیگیوں کے حوالے سے۔ ان کے مطابق مستقبل میں مالیاتی استحکام کے لیے مؤثر معاشی حکمت عملی اور قرضوں کے بہتر انتظام کی ضرورت ہوگی۔




