Search
Close this search box.
بدھ ,10 جون ,2026ء

ٹیکس کا بوجھ بڑھنے پر عوام پریشان، بجٹ سے قبل نئے خدشات جنم لینے لگے

اسلام آباد: ٹیکس کا بوجھ ایک بار پھر وفاقی بجٹ سے قبل عوامی بحث کا اہم موضوع بن گیا ہے۔ ملک بھر میں لاکھوں تنخواہ دار افراد پہلے ہی اپنی آمدن پر باقاعدگی سے ٹیکس ادا کر رہے ہیں، تاہم روزمرہ استعمال کی متعدد اشیا اور خدمات پر عائد مختلف محصولات نے ان کی مالی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

ماہرین کے مطابق پاکستان میں براہِ راست ٹیکس ادا کرنے والوں کی ایک بڑی تعداد تنخواہ دار طبقے پر مشتمل ہے، لیکن اس کے باوجود یہی طبقہ موبائل فون کے استعمال، پیٹرول کی خریداری، یوٹیلٹی بلز اور دیگر ضروری اشیائے صرف پر بھی مختلف اقسام کے بالواسطہ ٹیکس ادا کرتا ہے۔

نئے مالی سال کے بجٹ کی تیاری کے دوران عوامی حلقوں میں یہ خدشات پائے جا رہے ہیں کہ محصولات کے اہداف حاصل کرنے کے لیے ایک بار پھر انہی طبقات پر اضافی مالی ذمہ داریاں نہ ڈال دی جائیں جو پہلے ہی ٹیکس نیٹ کا حصہ ہیں۔

اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک میں ٹیکس وصولیوں کا بڑا حصہ بالواسطہ ٹیکسوں سے حاصل کیا جاتا ہے، جس کا اثر کم آمدن والے شہریوں پر بھی اسی طرح پڑتا ہے جیسے زیادہ آمدن رکھنے والوں پر۔ یہی وجہ ہے کہ عام شہری مہنگائی اور بڑھتے اخراجات کے ساتھ ساتھ ٹیکسوں کے دباؤ کو بھی محسوس کر رہے ہیں۔

دوسری جانب کاروباری حلقوں کا مؤقف ہے کہ اگر حکومت ٹیکس نیٹ کو وسیع کرے اور ایسے شعبوں کو مکمل طور پر دستاویزی نظام میں لائے جو ابھی تک مؤثر انداز میں ٹیکس دائرے میں شامل نہیں، تو محصولات میں نمایاں اضافہ ممکن ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹیکس کا بوجھ کم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ٹیکس نظام کو زیادہ منصفانہ بنایا جائے، تاکہ معیشت کے تمام شعبے اپنی آمدن کے مطابق قومی خزانے میں حصہ ڈال سکیں۔ ان کے مطابق صرف نئے ٹیکس عائد کرنے کے بجائے ٹیکس دہندگان کی تعداد بڑھانا زیادہ مؤثر حکمت عملی ثابت ہو سکتی ہے۔

بجٹ سے قبل عوام، کاروباری برادری اور تنخواہ دار طبقہ حکومت سے یہی توقع کر رہے ہیں کہ مالیاتی پالیسیوں میں توازن پیدا کیا جائے اور محصولات بڑھانے کے لیے نئے ذرائع تلاش کیے جائیں، تاکہ پہلے سے ٹیکس ادا کرنے والے افراد پر مزید بوجھ نہ پڑے۔

یہ بھی پڑھیں