اسلام آباد: وفاقی بجٹ 2026-27 سے قبل حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان جاری مذاکرات میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، جس کے تحت سولر پینلز پر سیلز ٹیکس 18 فیصد تک بڑھانے کی تجویز واپس لیے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق حکومت کی درخواست پر آئی ایم ایف نے سولر پینلز پر مجوزہ 18 فیصد سیلز ٹیکس عائد نہ کرنے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔ اگر یہ تجویز حتمی شکل اختیار کر لیتی ہے تو آئندہ مالی سال میں سولر پینلز پر موجود 10 فیصد سیلز ٹیکس برقرار رہنے کا امکان ہے، جس سے گھریلو اور تجارتی صارفین کو ریلیف مل سکتا ہے۔
طلبہ اور والدین کے لیے بھی اچھی خبر سامنے آئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اسٹیشنری مصنوعات پر مجوزہ 18 فیصد سیلز ٹیکس بھی نافذ نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس سے تعلیمی اخراجات میں اضافے کے خدشات کم ہو سکتے ہیں۔
دوسری جانب تنخواہ دار طبقے کے لیے تقریباً 60 ارب روپے کے ریلیف پیکیج کی تیاری کی اطلاعات ہیں۔ ذرائع کے مطابق سالانہ آمدن پر ٹیکس سلیب کی حد 41 لاکھ روپے سے بڑھا کر 70 لاکھ روپے کرنے کی تجویز زیر غور ہے، جبکہ زیادہ آمدن رکھنے والے افراد پر عائد 10 فیصد سرچارج ختم کیے جانے کا بھی امکان ہے۔
رپورٹس کے مطابق 6 لاکھ سے 12 لاکھ روپے سالانہ آمدن والے ملازمین کے موجودہ ٹیکس سلیب برقرار رہ سکتے ہیں۔ برآمدات کے فروغ کے لیے خصوصی مراعاتی پیکیج پر بھی غور جاری ہے جبکہ ایک فیصد ایکسپورٹ ٹیکس ختم کرنے کی تجویز زیر بحث ہے۔
تاہم ریئل اسٹیٹ سیکٹر سے متعلق معاملات پر ابھی حتمی فیصلہ نہیں ہو سکا اور حکومت و آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ تجاویز بجٹ کا حصہ بنتی ہیں تو توانائی، تعلیم، برآمدات اور تنخواہ دار طبقے کو نمایاں ریلیف مل سکتا ہے۔
حتمی اعلان وفاقی بجٹ پیش کیے جانے کے بعد متوقع ہے۔

