اسلام آباد: وفاقی بجٹ 2026-27 کی آمد سے قبل سولر پینلز کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جس کے باعث متبادل توانائی کے منصوبے لگانے کے خواہشمند شہریوں کو اضافی مالی بوجھ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
مارکیٹ ذرائع کے مطابق حکومت کی جانب سے سولر آلات پر سیلز ٹیکس کی شرح 10 فیصد سے بڑھا کر 18 فیصد کرنے کی ممکنہ تجویز کے بعد تاجروں اور خریداروں میں بے یقینی کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ اسی خدشے کے باعث مختلف اقسام کے سولر پینلز کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
اس وقت 585 واٹ، 645 واٹ اور 720 واٹ کے سولر پینلز مارکیٹ میں 26 ہزار سے 32 ہزار روپے کے درمیان فروخت ہو رہے ہیں۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ بعض ماڈلز کی قیمتوں میں 4 ہزار روپے تک اضافہ ہو چکا ہے۔
صرف سولر پینلز ہی نہیں بلکہ انورٹرز کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ سامنے آیا ہے۔ مارکیٹ رپورٹس کے مطابق مختلف برانڈز کے انورٹرز 20 ہزار روپے تک مہنگے ہو گئے ہیں، جبکہ ایک سے تین کلوواٹ تک کے سولر سسٹمز کی قیمت میں 5 ہزار سے 10 ہزار روپے تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
دوسری جانب لیتھیئم بیٹریوں کی طلب بڑھنے سے ان کی قیمتیں بھی اوپر چلی گئی ہیں۔ بعض ماڈلز کی قیمت میں 20 ہزار روپے تک اضافہ رپورٹ کیا گیا ہے، جس سے مکمل سولر سسٹم کی مجموعی لاگت مزید بڑھ گئی ہے۔
ماہرین کے مطابق سولر پینلز کی قیمتوں میں اضافہ بنیادی طور پر ٹیکس سے متعلق خدشات اور مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال کا نتیجہ ہے۔ اگر بجٹ میں نئے ٹیکس نافذ کیے گئے تو سولر توانائی اپنانے کے خواہشمند صارفین کو مزید اخراجات برداشت کرنا پڑ سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ اس وقت سولر پینلز کی درآمد پر 10 فیصد ٹیکس عائد ہے، جبکہ آئندہ بجٹ میں اس شرح میں اضافے کی تجاویز زیر بحث ہیں۔


