Search
Close this search box.
جمعرات ,11 جون ,2026ء

تنخواہ دار طبقے کو ریلیف، حکومت کو بجٹ سے قبل بڑی پیشرفت حاصل

اسلام آباد: تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دینے کے حوالے سے وفاقی حکومت کو بجٹ سے قبل اہم پیشرفت حاصل ہوئی ہے، جہاں ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی کوششوں کے نتیجے میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) بعض اہم تجاویز پر نرمی دکھانے پر آمادہ ہو گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے آئی ایم ایف حکام کو پاکستان میں مہنگائی، بڑھتے ہوئے معاشی دباؤ اور متوسط طبقے کو درپیش مشکلات سے آگاہ کیا۔ اس کے بعد جاری مذاکرات میں تنخواہ دار افراد کے لیے ٹیکس ریلیف کی تجویز پر مثبت پیش رفت سامنے آئی ہے۔

اطلاعات کے مطابق آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ملازمت پیشہ افراد کے لیے تقریباً 60 ارب روپے کے ریلیف پیکیج کا اعلان متوقع ہے۔ اس کے علاوہ ٹیکس سلیب میں تبدیلی اور بعض اضافی محصولات میں کمی کی تجاویز بھی زیر غور ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف نے سولر پینلز اور اسٹیشنری اشیا پر مجوزہ 18 فیصد سیلز ٹیکس عائد کرنے کی تجویز پر بھی لچک دکھائی ہے۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ان اشیا پر موجودہ 10 فیصد سیلز ٹیکس برقرار رکھا جائے گا، جس سے صارفین اور کاروباری طبقے کو اضافی مالی بوجھ سے بچانے میں مدد ملے گی۔

دوسری جانب بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے مستحق خاندانوں کے لیے بھی اچھی خبر سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق پروگرام کے وظائف میں اضافے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہو گیا ہے تاکہ کم آمدنی والے طبقے کو مہنگائی کے اثرات سے نمٹنے میں سہولت مل سکے۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ تجاویز بجٹ کا حصہ بنتی ہیں تو اس سے نہ صرف تنخواہ دار طبقے کو ریلیف ملے گا بلکہ قابلِ تجدید توانائی کے شعبے اور کمزور طبقوں کی مالی معاونت میں بھی بہتری آئے گی۔

تاہم تمام تجاویز کی حتمی منظوری وفاقی بجٹ 2026-27 کی پیشی کے وقت سامنے آئے گی، جس کا عوام اور کاروباری حلقوں کو بے چینی سے انتظار ہے۔

یہ بھی پڑھیں