Search
Close this search box.
جمعرات ,11 جون ,2026ء

ایک سال میں 2353 ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ، اقتصادی سروے میں حیران کن انکشاف

اسلام آباد: (رضوان عباسی )ٹیکس چھوٹ اور مختلف مالیاتی رعایتوں کے حوالے سے قومی اقتصادی سروے 2025-26 میں اہم اعداد و شمار سامنے آگئے ہیں، جن کے مطابق حکومت نے گزشتہ ایک سال کے دوران مختلف شعبوں کو مجموعی طور پر 2353 ارب روپے کی مالی رعایتیں فراہم کیں۔

اقتصادی سروے رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ ٹیکس چھوٹ سیلز ٹیکس کی مد میں دی گئی، جس کا حجم 1274 ارب روپے رہا۔ اسی طرح انکم ٹیکس میں 580 ارب روپے جبکہ کسٹمز ڈیوٹی میں 499 ارب روپے کی رعایت دی گئی۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سیلز ٹیکس ایکٹ کے سکسٹھ شیڈول کے تحت مقامی سطح پر فراہم کی جانے والی اشیا اور خدمات پر 306 ارب روپے کی رعایت دی گئی، جبکہ درآمدی اشیا پر اسی شیڈول کے تحت 261 ارب روپے کی چھوٹ دی گئی۔

قومی اقتصادی سروے کے مطابق آٹوموبائل، ایکسپلوریشن اینڈ پروڈکشن (E&P) اور پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) سے وابستہ منصوبوں کو مجموعی طور پر 276 ارب روپے کی ٹیکس مراعات حاصل ہوئیں۔ اس کے علاوہ آٹھویں شیڈول کے تحت مختلف کاروباری اور صنعتی شعبوں کو 636 ارب روپے کی رعایتیں دی گئیں۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسی مالی مراعات کا مقصد سرمایہ کاری میں اضافہ، صنعتی سرگرمیوں کا فروغ اور معیشت کے مختلف شعبوں کی حوصلہ افزائی کرنا ہوتا ہے۔ تاہم دوسری جانب یہ بھی حقیقت ہے کہ ان رعایتوں کے باعث قومی خزانے کو ممکنہ آمدن کے ایک بڑے حصے سے محروم ہونا پڑتا ہے۔

اقتصادی حلقوں کے مطابق موجودہ مالی صورتحال میں یہ سوال بھی اہم ہے کہ آیا دی جانے والی ٹیکس مراعات سے مطلوبہ معاشی فوائد حاصل ہو رہے ہیں یا نہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹیکس چھوٹ کے نظام کا باقاعدہ جائزہ لینا ضروری ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ رعایتوں سے حقیقی سرمایہ کاری اور معاشی ترقی کو فروغ مل رہا ہے۔

اقتصادی سروے میں سامنے آنے والے یہ اعداد و شمار بجٹ 2026-27 کی بحث میں بھی اہمیت اختیار کر گئے ہیں، جہاں محصولات میں اضافے اور ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے پر زور دیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں