اسلام آباد: روسی ایف ایم ڈی ویکسین کی پاکستان کو مسلسل فراہمی میں حائل اہم رکاوٹ دور کر دی گئی ہے، جس کے بعد ملک بھر میں مویشیوں کو خطرناک بیماریوں سے بچانے کی کوششوں کو مزید تقویت ملے گی۔
خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی) کی معاونت سے روس میں تیار کی جانے والی منہ کھر و کھرپکا (فٹ اینڈ ماؤتھ ڈیزیز) کی ویکسین کی درآمد اور فراہمی سے متعلق مسائل کا کامیاب حل نکال لیا گیا ہے۔ اس پیش رفت کو لائیو اسٹاک کے شعبے کے لیے ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق روسی ساختہ ایف ایم ڈی ویکسین سال 2012 سے خوراک و زراعت کی تنظیم اور نجی شعبے کے تعاون سے پاکستان درآمد کی جا رہی ہے۔ یہ ویکسین مویشیوں کو ایک خطرناک اور متعدی بیماری سے محفوظ رکھنے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔
مارچ 2024 میں ویکسینیشن مہم کے تعطل کے بعد ملک میں بیماری کے پھیلاؤ کے خدشات میں اضافہ ہوگیا تھا، جس پر مویشی پال حضرات اور متعلقہ اداروں میں تشویش پائی جاتی تھی۔ ایس آئی ایف سی نے مختلف اداروں اور متعلقہ فریقین کے درمیان رابطہ کاری کو بہتر بناتے ہوئے زیر التوا معاملات کو حل کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ روسی ایف ایم ڈی ویکسین کی فراہمی بحال ہونے سے مویشیوں کی صحت بہتر ہوگی، دودھ اور گوشت کی پیداوار میں اضافہ متوقع ہے جبکہ کسانوں کو بھی معاشی فوائد حاصل ہوں گے۔
حکام کے مطابق اس اقدام سے پاکستان کی لائیو اسٹاک اور گوشت کی برآمدات بڑھانے کی کوششوں کو مزید تقویت ملے گی۔ ساتھ ہی حیوانی صحت کے شعبے میں پاکستان اور روس کے درمیان تعاون بھی مزید مستحکم ہوگا۔
ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ بروقت ویکسینیشن نہ صرف بیماریوں کی روک تھام میں مدد دیتی ہے بلکہ مویشی پال شعبے کو پائیدار بنیادوں پر ترقی دینے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔



