اسلام آباد (رضوان عباسی سے)پاکستان میں منشیات کے پھیلاؤ کے خلاف جاری جنگ میں ایک بڑا موڑ اس وقت آیا جب اینٹی نارکوٹکس پولیس نے لاہور میں کارروائی کرتے ہوئے آئس اور ہیروئن کی کروڑوں روپے مالیت کی بھاری مقدار برآمد کرلی۔
یہ کارروائی بظاہر ایک معمولی گرفتاری دکھائی دیتی تھی، لیکن دوران تفتیش ایسے انکشافات سامنے آئے جنہوں نے آزاد جموں و کشمیر کے اعلیٰ سرکاری حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔پولیس نے ٹھوکر نیاز بیگ کے مقام پر ایک سوزوکی آلٹو کو روکا، جس سے 2 کلو آئس اور 2 کلو ہیروئن برآمد ہوئی۔
ملزم حبیب الرحمان، جو نوشہرہ کا رہائشی ہے، کو موقع پر گرفتار کر لیا گیا۔پولیس نے مقدمہ نمبر 70/25 کے تحت کارروائی کا آغاز کیا تھا، جس کی تفتیش اب آزاد کشمیر کی طرف جا رہی ہے۔حیران کن طور پر، گرفتار ملزم نے تفتیش کے دوران دو دیگر افراد کے نام لیے جنہیں پولیس نے تفتیش کے لیے طلب کر لیا ہے۔
ان افراد کی شناخت چوہدری آصف ریاض اور ثاقب ریاض کے طور پر ہوئی ہے، جو مبینہ طور پر ڈپٹی کمشنر میرپور یاسر ریاض کے سگے بھائی ہیں۔پولیس ذرائع کے مطابق ان دونوں افراد کو منشیات سے متعلق مقدمے کی تفتیش میں شامل تفتیش کیا جا رہا ہے، تاہم گرفتاری یا فرد جرم سے متعلق کوئی باضابطہ اعلان تاحال سامنے نہیں آیا۔
یہ انکشاف آزاد کشمیر کے سیاسی اور سول بیوروکریسی میں گہرے اضطراب کا باعث بنا ہے۔ میرپور، جو کہ آزاد کشمیر کا اہم تجارتی، تعلیمی اور تارکین وطن کا مرکز سمجھا جاتا ہے، وہاں کے ڈپٹی کمشنر کے قریبی رشتہ داروں کا ایک منشیات کیس میں ملوث ہونا نہ صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے چیلنج بن چکا ہے، بلکہ اس سے آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت اور گورننس پر بھی سوالیہ نشان لگ چکا ہے.
ڈونلڈ ٹرمپ کا امریکی کمپنیوں کو بھارتی شہریوں کو ملازمت نہ دینے کی ہدایت




