اسلام آباد (رضوان عباسی )آزاد جموں و کشمیر کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اہم اجلاس چیئرمین عبدالماجد خان کی زیر صدارت کشمیر ہاؤس میں منعقد ہوا، جس میں میرپور ڈویژن کے اضلاع میرپور، کوٹلی اور بھمبر کے شاہرات منصوبوں کا آڈٹ جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں کمیٹی اراکین کرنل (ر) وقار احمد نور، اظہر صادق سمیت محکمہ شاہرات کے متعلقہ افسران نے شرکت کی۔
اجلاس کے دوران محکمہ شاہرات کے افسران کی جانب سے مطلوبہ ریکارڈ اور تیاری کے بغیر پیش ہونے پر کمیٹی نے سخت برہمی کا اظہار کیا۔ تینوں اضلاع کے افسران متعدد سوالات کے تسلی بخش جوابات دینے میں ناکام رہے، جس پر چیئرمین کمیٹی نے میرپور ڈویژن کے ایکسیئن کو جاری اجلاس سے واپس بھیج دیا اور ہدایت کی کہ مکمل تیاری کے ساتھ دوبارہ پیش ہوں۔
کمیٹی کو بریفنگ کے دوران انکشاف ہوا کہ بعض سڑک منصوبوں میں منظوری کے بغیر اخراجات اور زائد ادائیگیاں کی گئیں۔ چار سال سے زیر التوا ایک اہم سڑک منصوبے کا مکمل ریکارڈ بھی پیش نہ کیا جا سکا جس پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔
تتہ پانی روڈ سے متعلق آڈٹ اعتراضات پر تفصیلی رپورٹ طلب کر لی گئی جبکہ فیز 10 سڑک منصوبے کے آغاز کے سال سے متعلق افسران درست معلومات فراہم نہ کر سکے۔ کمیٹی رکن کی وضاحت کے مطابق فیز 10 منصوبہ بند ہو چکا ہے اور اس پر اس وقت کوئی عملی کام جاری نہیں۔
اجلاس میں ایک ضلع سے دوسرے ضلع منتقل کیے گئے تارکول کی عدم واپسی پر بھی آڈٹ اعتراض برقرار رکھا گیا۔ تین سال سے زیر التوا اس کیس پر کمیٹی نے ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے فوری ریکوری کی ہدایت جاری کی۔ سیکرٹری شاہرات نے یقین دہانی کرائی کہ آئندہ اجلاس سے قبل تارکول کی واپسی یقینی بنائی جائے گی۔
رکن کمیٹی کرنل (ر) وقار احمد نور نے حکام کی عدم تیاری پر اجلاس ملتوی کرنے کی تجویز دی جسے منظور کرتے ہوئے چیئرمین کمیٹی نے اجلاس آج صبح 10 بجے تک ملتوی کر دیا اور تمام افسران کو مکمل تیاری کے ساتھ پیش ہونے کی ہدایت جاری کی۔




