Search
Close this search box.
پیر ,15 جون ,2026ء

گلگت بلتستان کوٹے پر سندھ ڈومیسائل خاتون کی تقرری ، نیا تنازعہ سامنے آگیا

اسلام آباد(نیوزڈیسک) نگراں حکومت کے دور میں وزارت صحت میں متنازع تقرری پر ردعمل سامنے آیا ہے۔ پاکستان نرسنگ اینڈ مڈوائفری کونسل (PNMC) کی تشکیل کے حوالے سے فراڈ کے الزامات سامنے آئے ہیں، ذرائع نے نامزدگی کے عمل میں بے ضابطگیوں کا انکشاف کیا ہے۔

وزارت صحت سندھ میں مقیم خاتون فرزانہ ذوالفقار کو گلگت بلتستان (جی بی) کیلئے مخصوص پی این ایم سی کے عہدے پر نامزد کرنے کیلئے چھان بین کی رہی ہے۔ وزارت قومی صحت کے ذرائع نے فرزانہ ذوالفقار کے سندھ ڈومیسائل کی تصدیق کرتے ہوئے ان کی تقرری کے جواز پر سوالات اٹھادیئے ہیں۔
روس چین اسٹریٹجک اتحاد پر بھارت کی چیخیں
گلگت بلتستان حکومت نے اصل میں محترمہ کو نامزد کیا تھا۔ PNMC کے کردارکیلئے سرتاج سینئر نرس، اس کے بعد ایک خط کے ذریعے اسے نامزد کیا گیا۔ GB میں گریڈ 16 کی ایک سینئر نرس کیلئے وہاں کی مقامی خواتین کو ان نامزدگیوں کو مبینہ طور پر نظرانداز کیا گیا، اور جی بی حکومت کے خطوط کا وزارت صحت نے جواب نہیں دیا۔


اس کے جواب میں جی بی حکومت نے فرزانہ ذوالفقار کی تقرری پر احتجاج کرتے ہوئے متعدد باریاددہانی خطوط ارسال کئے مگرکو موثر جواب نہ مل سکا۔ ان کا موقف ہے کہ جی بی کوٹہ پر فرزانہ ذوالفقار کی نامزدگی غیر قانونی ہے، کیونکہ وہ گلگت بلتستان کی رہائشی نہیں ۔

جی بی حکام کا کہنا ہے کہ مسز سرتاج کو پی این ایم سی کے عہدے پر بجا طور پر فائز ہونا چاہیے۔ گلگت بلتستان حکومت کے احتجا ج کے باوجود فرزانہ ذوالفقار کو پی این ایم سی کی صدر منتخب کر لیا گیا جس سے تنازع مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔ جی بی حکومت کا موقف ہے کہ گلگت کے ایک نجی ہسپتال میں بطور نرس کام کرنے والی فرزانہ ذوالفقار کو ان کے علاقے کیلئےمخصوص کوٹہ کے عہدے پر فائز نہیں ہونا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں