روس چین ’’لامحدود دوستی‘‘کے بھارت کے حوالے سے اسٹریٹجک سائیڈ افیکٹس سامنے آنے پر مودی سرکار اور ہندوستانی میڈیا کی چیخیں نکلنا شروع ہو گئی ہیں اور کچھ اس قسم کا واویلا شروع کر دیا گیا ہے کہ مگس کو باغ میں جانے سے روکو ناحق خون پروانے کا ہو گا جس طرح شاعر بہت دور کی سوچ رکھتے ہوئے شہد کی مکھی کو باغ میں جانے سے روکنے کی دہائی دے رہا ہے کم و بیش بھارتیوں کا انداز بھی وہی ہے ، شاعر کہتا ہے کہ باغ میں جا کر شہد کی مکھی پھولوں کا رس چوسے گی ، اس رس سے شہد کا چھتہ بنائے گی ، شہد کے چھتے سے موم نکلے گا ، موم سے موم بتی جلے گی ، اس کی روشنی پر پروانہ آئے گا اور جل مرے گا ۔ بھارتی اسٹریٹجک امور کے ماہرین کہہ رہے ہیں کہ چین کی شہہ پر روس یوکرین کے ساتھ جنگ کو طول دینے کے جس راستے پر چل پڑا ہے ، اس کے نتیجے میں آخر کار بھارت کے مفادات پر انتہائی کاری ضرب لگے گی اور اگلے دس پندرہ برسوں کے دوران ہندوستان کی فوجی مشین اور ملکی معیشت انتہائی سنگین چیلنجز سے دوچار ہو جائے گی اور اس کا نتیجہ یہ بھی نکل سکتا ہے کہ خود بھارت کی سلامتی بھی خطرے میں پڑ جائے ۔ روس یوکرین جنگ اور چین روس اسٹریٹجک الائنس کے سائیڈ افیکٹس پر بھارتیوں کی اس چیخ و پکار سے ایک بات تو بحرحال ثابت ہوتی ہے کہ بنیا برہمن سامراج بہت دور کی سوچتا ہے ، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ عالمی حالات کچھ کروٹ ایسی لینے جا رہے ہیں کہ اتنی ’’دور اندیشی‘‘ بھی بھارتیوں کے کچھ کام آنے والی نہیں اور امریکی شہہ پر اپنے ہمسایوں سے بگاڑ لینے کی پالیسی کی بھاری قیمت ادا کرتے ہوئے آنے والے دس پندرہ سالوں کے دوران نئی دہلی سرکار اپنی تاریخ کے خوفناک ترین دفاعی بحران کا شکار ہونے جا رہی ہے ۔بیجنگ میں روس اور چین کے دو روزہ سربراہ مذاکرات 16 اور 17 مئی کو ہوئے ، اس سلسلے میں صدر پیوٹن نے دورہ چین کے دوران انتہائی مصروف وقت گذارا ، مغربی اور بھارتی میڈیا پچھلے چند ہفتوں سے یہ تاثر رہا تھا کہ امریکی و یورپی پابندیوں سے بچنے کیلئے چین کی حکومت روس کے ساتھ عسکری و نیم عسکری تعاون میں کمی لائے گی لیکن صدر شی جن پنگ اور صدر ولادی میر پیوٹن نے مزید جارحانہ فیصلے کر کے پوری دنیا کو چونکا دیا ہے ۔ اصولی طور پر تو بیجنگ سے سامنے آنے والی تشویشناک خبروں سے یورپ اور عرب دنیا میں پریشانی کی لہر دوڑنا چاہیئے تھی کہ بیجنگ سے جو جارحانہ پیغام آیا ہے اس کی وجہ سے روس یوکرین جنگ اور اسرائیل حماس جنگ کے پھیلنے اور طول پکڑنے کے خطرات بہت بڑھ گئے ہیں ، حیران کن طور پر لیکن نئی دہلی میں بھی ہاہا کار مچ گئی ہے اور بھارت کو اپنی پڑ گئی ہے ۔
چین روس سربراہ مذاکرات کے مشترکہ اعلامیہ میں امریکہ اور نیٹو ممالک کو دی گئی ایٹمی جنگ کی دھمکی کے ساتھ یہ بھی کہا گیا ہے کہ دنیا اب نئے زمانے میں داخل ہو گئی ہے ، صدر ولادیمیر پیوٹن اور چینی صدر شی جن پنگ انتہائی جارحانہ انداز میں سامنے آئے ہیں ‘ چین کے دورے پر روانگی سے قبل صدر پیوٹن نے ہزاروں روسی افواج کے ساتھ یوکرین کے دوسرے سب سے بڑے شہر خارکیف کی طرف بڑی یلغار کا حکم دیدیا ، اور چند روز کے اندر ہی روسی فوج شمال اور شمال مشرق سے دو نئے محاذ کھول کر یوکرین کے 10 کلو میٹر اندر گھس کر 9 بڑے قصبوں اور شہروں پر قابض ہو گئی ، دوسری طرف امریکہ ، برطانیہ اور اٹلی نے یوکرین کو طویل فاصلے تک مار کرنیوالے میزائل فراہم کر دیئے ہیں اور یہ پابندی بھی اٹھا لی ہے کہ وہ یہ میزائل روسی سرزمین پر حملوں کے لئے استعمال نہ کرے ، ان واقعات کی وجہ سے روس یوکرین جنگ میں انتہائی خوفناک قسم کی شدت آتی جا رہی ، پورا یورپ اس صورتحال سے پریشان ہے لیکن بھارت یورپی ممالک سے بھی زیادہ پریشان ہے ۔چین کی طرف سے روس کو جو معاشی و دفاعی سہارا ملا ہوا ہے اس کی وجہ سے روس کا یوکرین جنگ میں نرمی دکھانے کا کوئی موڈ نہیں لگ رہا ۔ بھارت کو پریشانی یہ ہے کہ اگر اس جنگ نے طول پکڑا تو ہندوستانی فوج کو روس سے ملٹری ہارڈ ویئر کی فراہمی میں بہت بڑا تعطل آ جائے گا ۔
بھارت پچھلے 75 برسوں سے اپنی فوج کیلئے بھاری ہتھیاروں کی سپلائی کے حوالے سے روس پر غیر معمولی انحصار کرتا چلا آ رہا ہے ، اس وقت بھی انڈین آرمی کا 60 سے 70 فیصد ملٹری ہارڈ ویئر روسی ساختہ ہے اور حالیہ روس یوکرین جنگ کی وجہ سے اسے نئے روسی ملٹری ہارڈ وئیر کی سپلائی سست روی کا شکار ہو چکی ہے ، اگر یہ جنگ طول پکڑجاتی ہے تو روس کی اسلحہ ساز فیکٹریاں اپنے استعمال کے ہتھیار بنانے سے ہی فارغ نہیں ہوں گی اور بھارت کو اپنا پورا فوجی ڈھانچہ روسی ٹیکنالوجی سے مغربی ٹیکنالوجی پر شفٹ کرنا پڑجائے گا ، اس ہنگامی شفٹنگ کیلئے ایک طرف مزید اربوں ڈالر درکار ہوں گے تو دوسری طرف دس پندرہ برس بھی لگ جائیں گے اور اس دوران اگر لداخ میں بھارت کو چین سے جنگ لڑنا پڑ گئی تو ملٹری ہارڈ ویئر کی شدید قلت ناقابل تلافی نقصان کا باعث بن جائے گی ، یہی وہ خدشات ہیں کہ جن کی وجہ سے بھارتی دفاعی ماہرین پریشان ہیں اور پیوٹن شی کامیاب ملاقات نے ان کی راتوں کی نیندیں حرام کر دی ہیں ۔ ہندوستانی میڈیا چیخ رہا ہے کہ چین کی شہہ پر روس نے مشرقی یورپ اور مشرق وسطی میں عالمی کشیدگی کی جو آگ بھڑکا دی ہے ، اسرائیل اور نیٹو ممالک تو اس سے متاثر ہوں گے ہی ، یہ طویل جنگیں بھارت کو بھی لے ڈوبیں گی۔مغربی دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ بیجنگ میں پیوٹن اور شی جن پنگ کے درمیان دو روزہ سربراہ مذاکرات کے دوران امریکہ کو مشترکہ دشمن کے طور پر پیش کرتے ہوئے اسے سخت پیغام دینا اور مشترکہ اعلامیہ میں ایٹمی جنگ کی وارننگ شامل کرنا یہ ظاہر کر رہا ہے کہ روس اور چین مستقبل قریب میں مزید جارحانہ انداز میں سامنے آنے والے ہیں ، صدر پیوٹن اور صدر شی جن پنگ نے دنیا کے “نئے زمانے‘‘میں داخل ہو جانے کی بات بھی اسی تناظر میں کی ہے کہ اب امریکہ اکلوتی عالمی سپر پاور نہیں رہا ، اس لیئے بہتر یہی ہو گا کہ وہ اپنے طور طریقے تبدیل کر لے اور دنیا کے ہر خطے پر بالادستی قائم رکھنے کی ضد چھوڑ دے ۔ کیا امریکہ یہ مشورہ مانے گا ؟ یقینا نہیں ۔ اس لئے آنے والے سال جنگوں کے سال ہیں ، بھارت نے امریکی اسٹریٹجک اتحادی بن کر اب تک صرف چوری کھائی ہے ، اب جبکہ خون دینے کی باری آئی ہے تو اس کی چیخیں نکل رہی ہیں ۔