Search
Close this search box.
هفته ,13 جون ,2026ء

غیرمعروف اخبارات اورٹی وی چینلز کوکروڑوں کے اشتہارات ،حکومت نے عوام کے ٹیکس کاپیسہ پانی کی طرح بہادیا

اسلام آباد ( مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان مسلم لیگ ن ،پیپلزپارٹی اوردیگر جماعتوں کی اتحادی حکومت نے اپنے کاموں کی تشہیر کے لیے کروڑوں روپے کے اشتہارات الیکٹرانک اورپرنٹ میڈیا کودئیے ،متعدد غیرمعروف ٹی وی چینلز اوراخبارات جواشتہار کے میعار پربھی پورا نہیں اترتے انہیں کروڑوں کے اشتہارات سے نواز دیاگیا،عوامی ٹیکس کے پیسے کوحکومت اپنے کارناموں کی تشہیر کے لیے ضائع کررہی ہے ۔حکومت نے پرنٹ میڈیا کو9ارب 48کروڑ سے زائد جبکہ الیکٹرانک میڈیا کو6ارب 58کروڑ سے زائد کے اشتہارات جاری کیے،جبکہ مجموعی طور پرپچھلے پانچ سالوں میں 16ارب سے زائد کے اشتہارات جاری کیے گئے۔حکومت پنجاب نے حال ہی میں ڈیجیٹل تشہیر کے لیے 55کروڑ روپے کی منظوری دی حکومت کایہ پروگرام محکمہ اطلاعات کے ذریعے چلایاجائے گا،حکومت ایک طرف آئی ایم ایف کی ایما ء پرآئے روز بھاری بھرکم ٹیکسز نافذ کررہی ہے تو دوسری جانب اندرون اوربیرون ملک دوروں کے اشتہارات بھی اخبارات کودئیے جارہے ہیںحکومت مختلف ذرائع ابلاغ کے ذریعے اپنے کاموں کی تشہیر و دیگر مقاصد کے لیے اشتہارات نجی چینلز اور اخبارات میں شائع کرواتی ہے اور ہر دور میں ہی اربوں روپوں کے متقاضی اس عمل پر حکومتوں پر تنقید کی جاتی ہے۔گزشتہ 5 برسوں میں پی ٹی آئی، پی ڈی ایم اور نگراں حکومت نے مجموعی طور پر 16 ارب 6 کروڑ روپے کے اشتہارات اخبارات اور چینلز کو جاری کیے۔ اس مقصد کے لیے پرنٹ میڈیا کو 9 ارب 48 کروڑ روپے جبکہ الیکٹرانک میڈیا کو 6 ارب 58 کروڑ روپے ادا کیے گئے۔ گزشتہ 5 سالوں میں اشتہارات پر کس دور حکومت میں سب سے زیادہ پیسے خرچ کیے گئے اور وہ کون سا دور حکومت تھا جس میں میڈیا کو مہنگے ترین اشتہارات دیے گئے۔عمران خان کے دور حکومت میں الیکٹرانک میڈیا کو ایک سال 42 کروڑ روپے دوسرے سال 67 کروڑ روپے جبکہ آخری سال یعنی 2021-22 میں ایک ارب 13 کروڑ روپے کے اشتہارات جاری کیے گئے۔پی ڈی ایم دور حکومت میں سال 2022-23 کے دوران ایک ارب 84 کروڑ روپے اور نگراں دور حکومت میں 2 ارب 49 کروڑ روپے اشتہارات کی مد میں ادا کیے گئے۔ پاکستان تحریک انصاف کے دور حکومت کے پہلے سال 2019-20 میں الیکٹرانک میڈیا کو 49 کروڑ روپے کے اشتہارات دیے گئے جبکہ دوسرے سال 2020-21 میں اشتہارات پر 67 کروڑ روپے جبکہ مالی سال 2021-22 میں ایک ارب 13 کروڑ روپے سے زائد رقم الیکٹرانک میڈیا کو اشتہارات کی مد میں ادا کیے گئے۔پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) دور حکومت میں سال 2022-23 کے دوران الیکٹرانک میڈیا کو اشتہارات کی مد میں ایک ارب 84 کروڑ روپے کی ادائیگی کی گئی جبکہ نگراں دور حکومت میں سال 2023-24 کے دوران الیکٹرانک میڈیا کو اشتہارات کی مد میں 2 ارب 49 کروڑ روپے ادا کیے گئے۔عمران خان کے دور حکومت میں جیو نیوز کو ایک سال 2 کروڑ اور ایک سال 4 کروڑ روپے اور ایک سال 8 کروڑ روپے کے اشتہارات دیے گئے، جبکہ پی ڈی ایم دور حکومت میں جیو نیوز کو 13 کروڑ 82 لاکھ روپے اور نگراں دور میں 16 کروڑ 72 لاکھ روپے اشتہارات کی مد میں ادا کیے گئے۔عمران خان کے دور حکومت میں اے آر وائی نیوز کو ایک سال 3 کروڑ اور ایک سال 5 کروڑ روپے اور ایک سال 7 کروڑ روپے کے اشتہارات دیے گئے جبکہ پی ڈی ایم دور حکومت میں جیو نیوز کو کوئی رقم ادا نہیں کی گئی اور نگراں دور میں 5 کروڑ 69 لاکھ روپے اشتہارات کی مد میں ادا کیے گئے۔عمران خان کے دور حکومت میں پی ٹی وی نیوز کو ایک سال 3 کروڑ 77 لاکھ روپے، اگلے سال 3 کروڑ 66 لاکھ روپے اور اس سے اگلے سال 8 کروڑ 25 لاکھ روپے کے اشتہارات دیے گئے جبکہ پی ڈی ایم دور حکومت میں پی ٹی وی نیوز کو 9 کروڑ 78 لاکھ روپے اور نگراں دور میں 14 کروڑ روپے اشتہارات کی مد میں ادا کیے گئے۔پاکستان تحریک انصاف کے دور حکومت کے پہلے سال 2019-20 میں پرنٹ میڈیا کو 2 ارب 17 کروڑ روپے کے اشتہارات دیے گئے، دوسرے سال 2020-21 میں اشتہارات پر 1 ارب 86 کروڑ روپے جبکہ 2021-22 میں ایک ارب 88 کروڑ روپے سے زائد رقم پرنٹ میڈیا کو اشتہارات کی مد میں ادا کی گئی۔پی ڈی ایم دور حکومت میں سال 2022-23 کے دوران پرنٹ میڈیا کو اشتہارات کی مد میں ایک ارب 91 کروڑ روپے کی ادائیگی کی گئی جبکہ نگراں دور حکومت میں سال 2023-24 کے دوران پرنٹ میڈیا کو 1 ارب 42 کروڑ روپے ادا کیے گئے۔عمران خان کے دور حکومت میں جنگ اخبار کو ایک سال 15 کروڑ اور ایک سال 14 کروڑ روپے کے اشتہارات دیے گئے جبکہ پی ڈی ایم دور حکومت میں جنگ اخبار کو 17 کروڑ روپے اور نگراں دور میں 18 کروڑ روپے اشتہارات کی مد میں ادا کیے گئے۔واضح رہے کہ پی ٹی آئی کا دور حکومت اپریل 2022 تک تھا جس کے بعد اگست 2023 تک پی ڈی ایم کا دور رہا بعد ازاں اگست 2023 سے فروری 2024 تک نگراں دور تھا اور پھر مارچ 2024 سے شہباز شریف اور اتحادیوں کا دور حکومت ہے۔

مزیدپڑھیں :بھارتی فلم کے ٹریلر میں پاکستانی سیاسی جماعت کے جلسے کی منظرکشی

یہ بھی پڑھیں