Search
Close this search box.
هفته ,04 جولائی ,2026ء

سعودی عرب اور چین کا پاکستان میں 10 بلین ڈالر کے ریفائنری منصوبہ شروع کرنے کا فیصلہ

اسلام آباد(نیوزڈیسک)سعودی آرامکو اور چین کا سینوپیک پاکستان میں 10 بلین ڈالر کی گرین ریفائنری یا کروڈ ٹو پیٹرو کیمیکل کمپلیکس میں سرمایہ کاری کرنے پر غور کر رہے ہیں۔تاہم، ان کا فیصلہ اس وقت مارکیٹ اسٹڈی پر منحصر ہے جو اس وقت حکومت کے زیر انتظام تیل کی مارکیٹنگ کمپنی پاکستان اسٹیٹ آئل (PSO) کے ذریعے کرایا جا رہا ہے۔

دونوں ممالک کا جائزہ رواں سال دسمبر تک مکمل ہونے کی امید ہے۔29 اگست کو پاکستانی اور سعودی حکام کے درمیان ہونے والی حالیہ میٹنگ کے دوران، PSO حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے بتا یا کہ مارکیٹ اسٹڈی کے نتائج اس بات کا تعین کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے کہ آیا پراجیکٹ آگے بڑھے گایا اس کے متبادل فیصلے کئے جائیں گے ۔

اجلاس میں شامل ایک سینئر اہلکار نے تصدیق کی کہ اس تحقیق کا نتیجہ آرامکو اور سائنوپک کے اس میگا پراجیکٹ کو آگے بڑھانے کے فیصلے کی رہنمائی کرے گا۔جولائی 2024 میں، PSO کے بورڈ نے مارکیٹ اسٹڈی کیلئے $3 ملین تک مختص کئے تھے۔

پاکستانی حکومت نے ایک نئی گرین ریفائنری پالیسی بھی متعارف کرائی جس میں سعودی آرامکو کی ترجیحات کے مطابق 25 سال کیلئے 7.5 فیصد ڈیمانڈ ڈیوٹی اور 20 سال کی ٹیکس چھوٹ جیسی خاطر خواہ مراعات پیش کی گئی تاہم، سعودی آرامکو کا براہ راست حکومتی کنٹرول سے ہٹ جانا اور عالمی ریفائنری کے کاروبار میں اس کی کم دلچسپی، جو کم منافع بخش ہو چکا ہے، کچھ ہچکچاہٹ کا باعث بنا ہے۔

وسیع سفارتی کوششوں کے بعد، سعودی آرامکو نے سائنوپیک کو بطور انجینئرنگ، پروکیورمنٹ اور کنسٹرکشن (EPC) کنٹریکٹر کے طور پر شامل کرنے کی تجویز دی۔ ابتدائی طور پر، یہ منصوبہ بنایا گیا تھا کہ PSO، Sinopec، اور سعودی عرب مشترکہ طور پر مارکیٹ کا مطالعہ کریں گے۔

تاہم، بعد میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ PSO پہلے اپنے طور پر مطالعہ مکمل کرے گا، آرامکو اور سینوپیک نتائج کی بنیاد پر اپنا حتمی فیصلہ کریں گے۔مطالعہ اس منصوبے کی قسم کا جائزہ لے گا جسے تیار کیا جانا چاہئے، ساتھ ہی اس کی لاگت اور صلاحیت کا بھی۔مزید برآں، یہ اندازہ کرے گا کہ پاکستان میں کتنی پٹرولیم مصنوعات استعمال کی جائیں گی اور کتنی برآمد کی جا سکتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں