اسلام آباد(نیوز ڈیسک)اے بی این نیوز کے پروگرام’’ڈیبیٹ ایٹ8‘‘سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیر مملکت برائے ماحولیات ملک امین اسلم نے کہا کہ سیلاب کی وجہ سےپاکستان میں تباہی ہو رہی ہے حکومت اس معاملے میں تیار نہیں تھی اس کو نمٹنے کےلئے حکومت کے پاس منصوبے بہت تھے لیکن اس کا مقابلے کرنے کےلئے حکومت تیار نہیں تھی
جس کی وجہ سے تقریباً60لاکھ افراد ابھی تک متاثر ہوچکے ہیں ابھی خبر سننے میں آئی ہے 10لاکھ ایکڑ زمین پر فصلیں تباہ ہو گئیں ہیں یہ ابھی تو پانی کی وجہ سے تباہی ہو رہی ہے لیکن آگے اس کے اثرات بہت دور تک جائیں گے ہمارے تین دریائوں میں سیلابی صورتحال ہے تینوں دریا ئوں نے مل کر سندھ میں جا کر ابھی بڑی تباہی کرنی ہے ۔
یہ فلڈ جو ہے موسمیاتی تبدیلیاں پاکستان کو متاثر کر رہی ہیںلیکن یہ کوئی پہلی بار موسمیاتی تبدیلی نہیں آئی اس سے پہلے بھی 3 سال پہلے بھی ایسا ہی ماحول بنا تھا اس وقت بھی بہت تباہی ہوئی تھی لیکن بدقسمتی یہ ہےکہ ہم نے اس وقت اس سے کچھ نہیں سیکھا اور آج بھی ہم اتنے ہی پری پریڈ ہیں جتنے آج سےدس سال پہلے تھے لیکن ابھی تک ہم اس سے کچھ نہیں سیکھ رہے ۔
مزید پڑھیں۔پاکستانی برآمدات میں نمایاں اضافہ، امریکا کے لیے 40 فیصد بڑھ کر 56 کروڑ ڈالرز

