ایک ہی خاندان کے 3 بچے ڈوب کر جاں بحق
دریائے راوی میں ڈوب کر 3 بچے جاں بحق ہوگئے۔ ریسکیو اہلکاروں نے تینوں بچوں کی لاشیں دریاسے نکال کر ورثا کے حوالے کردیں، ڈوبنے والوں میں نصیب اللہ، امیرحمزہ اور قدرت اللہ شامل ہیں، جاں بحق ہونے والے بچوں
دریائے راوی میں ڈوب کر 3 بچے جاں بحق ہوگئے۔ ریسکیو اہلکاروں نے تینوں بچوں کی لاشیں دریاسے نکال کر ورثا کے حوالے کردیں، ڈوبنے والوں میں نصیب اللہ، امیرحمزہ اور قدرت اللہ شامل ہیں، جاں بحق ہونے والے بچوں
لاہور(نیوزڈیسک) لاہور کےنواحی علاقے کاہنہ کی ویمن پولیس اسٹیشن کی ایس ایچ او ڈاکوؤں کی ساتھی نکلی۔ پولیس کے مطابق لاہور کے نواحی علاقے کاہنہ سے ڈکیتی کے ملزمان کوگرفتار کیاگیا توانہوں نے انکشاف کیاکہ ان کے ساتھی نے واردات
پنجاب کی سینئر وزیر اور حکمران جماعت مسلم لیگ(ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب کی گاڑی حادثے کا شکار ہوئی اور انہیں آنکھ پر چوٹ آئی ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب کی گاڑی کو حادثہ ڈی ایچ اے
انسداد دہشتگردی عدالت نے 9 مئی کے مقدمے میں پی ٹی آئی رہنماؤں سمیت 17 ملزمان پر فرد جرم عائد کر دی۔ انسداد دہشتگردی عدالت (اے ٹی سی) میں 9 مئی کو شاہ فیصل تھانے میں ہنگامہ آرائی اور سرکاری
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی پنجاب ( پی ڈی ایم اے) نے اپریل کے اختتام تک درجہ حرارت 45 ڈگری تک جانے کا خدشہ ظاہر کردیا۔ تفصیلات کے مطابق پی ڈی ایم اے کے ترجمان کی جانب سے کہا گیا کہ
لاہور میں اہم شخصیات سے متعلق نازیبا ویڈیوز بنانے اور اپ لوڈ کرنے کے خلاف درجنوں مقدمات درج کرلیے گئے۔ پولیس ذرائع کے مطابق اہم شخصیات سے متعلق نازیبا وڈیوز بنانے اور اپ لوڈ کرنے پر لاہور کے مختلف تھانوں
لاہور(نیوز ڈیسک)ڈائریکٹر جنرل والڈ سٹی اتھارٹی کامران لاشاری نے عہدے سے استعفیٰ دیدیا، وزیراعلیٰ پنجاب کو بھیجے گئے استعفیٰ میں کہا ہے کہ کچھ ذاتی وجوہات کی وجہ سے ذمہ داری جاری نہیں رکھ سکتا۔ ڈی جی والڈ سٹی اتھارٹی
ریلوے پولیس کو دیگر فورسز کی طرح ڈیجٹلائز کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس پر تین ماہ میں عمل درآمد کردیا جائے گا۔ آئی جی ریلویز پولیس رائے محمد طاہر نے کہا کہ پی آئی ٹی بی کے تعاون
نئی نہروں کے خلاف سندھ میں ہونے والے احتجاج کی وجہ سے معیشت کا پہیہ رک گیا، ببرلوبائی پاس پر دھرنے کی وجہ سے پنجاب اور دیگر صوبوں سے آنے والی 12 ہزار گاڑیاں قومی شاہراہ پر پھنس گئیں، ایک
پنجاب میں خواتین کے خلاف تشدد کے واقعات خطرناک حد تک بڑھ گئے جبکہ ملوث ملزمان کے سزاؤں کی شرح بھی نہ ہونے کے برابر ہے۔ ایس ایس ڈی او کی رپورٹ کے مطابق سال 2024 کے دوران پنجاب بھر