سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس میں انمول عرف پنکی کیس پر اہم پیشرفت سامنے آئی، جہاں چیئرمین کمیٹی فیصل سلیم رحمان نے حکام کو ہدایت کی کہ ملزمہ کو عرفیت کے بجائے اس کے اصل نام سے پکارا جائے۔
اسلام آباد میں ہونے والے اجلاس میں ایڈیشنل آئی جی سندھ آزاد خان، ڈی جی نارکوٹکس حکام اور دیگر متعلقہ افسران شریک ہوئے۔ اجلاس کے دوران حکام نے کمیٹی کو انمول عرف پنکی سے متعلق تحقیقات پر تفصیلی بریفنگ دی۔
ایڈیشنل آئی جی سندھ نے بتایا کہ ملزمہ کے ایک اکاؤنٹ کی تفصیلات موصول ہوئی ہیں جس میں تقریباً 90 لاکھ روپے موجود ہیں۔ ان کے مطابق ملزمہ نے ایک شخص کی شناخت چوری کرنے کی بھی کوشش کی، جس پر الگ مقدمہ درج کیا جائے گا۔
حکام نے مزید بتایا کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) اور این سی سی آئی اے بھی تحقیقات میں معاونت فراہم کر رہے ہیں۔ چیئرمین کمیٹی فیصل سلیم رحمان نے اجلاس کے دوران کہا کہ ملزمہ کے نیٹ ورک سے جڑے تمام افراد تک پہنچنا ضروری ہے اور تمام کڑیاں ملائی جائیں۔
بریفنگ کے دوران یہ بھی بتایا گیا کہ ملزمہ تعلیمی اداروں میں منشیات کی سپلائی کے نیٹ ورک سے منسلک تھی، جبکہ ایک شخص کی موت بھی مبینہ طور پر اس کی فراہم کردہ منشیات کے باعث ہوئی۔ حکام کے مطابق ملزمہ کو مشترکہ کارروائی کے دوران گرفتار کیا گیا۔
سینیٹر شہادت اعوان نے اجلاس میں مؤقف اختیار کیا کہ چونکہ معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے، اس لیے کمیٹی کو محتاط رویہ اختیار کرنا چاہیے تاکہ کیس متاثر نہ ہو۔
چیئرمین کمیٹی نے بتایا کہ ملزمہ ماضی میں مختلف مقدمات میں بھی مطلوب رہی ہے اور اس کے خلاف لاہور میں کئی کیسز درج ہیں۔ اجلاس میں حکام نے یقین دہانی کرائی کہ تحقیقات شفاف انداز میں آگے بڑھائی جا رہی ہیں۔