تپتی گرمی کودور بھگا دینے والے کپڑوں کی 6 اقسام
گرمیوں کی شدید گرمی میں ٹھنڈا اور آرام دہ رہنا سب سے اہم ہوتا ہے، خاص طور پر بہترین گرمیوں کے کپڑوں کے انتخاب کے ساتھ۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کو اسٹائل پر سمجھوتہ کرنا پڑے۔
گرمیوں کی شدید گرمی میں ٹھنڈا اور آرام دہ رہنا سب سے اہم ہوتا ہے، خاص طور پر بہترین گرمیوں کے کپڑوں کے انتخاب کے ساتھ۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کو اسٹائل پر سمجھوتہ کرنا پڑے۔
تربوز نہ صرف پیاس اور تھکاوٹ کو کم کرتا ہے، بلکہ یہ جسم کی گرمی کو بھی دور کرتا ہے۔ یہ پیشاب کی تکلیف، مثانے کے انفیکشن، اور جسم کی سوجن یا ورم کو کم کرنے میں مددگار ہوتا ہے۔
چینی کا زیادہ استعمال موٹاپے، دانتوں کی خرابی، اور دیگر صحت کے مسائل کا باعث بن سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے لوگ چینی کو خیرباد کہنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن اس سے پہلے کہ آپ
دنیا ایک بار پھر ایک مہلک بیماری کے بڑھتے ہوئے خطرے کا سامنا کر رہی ہے۔ ٹائیفائیڈ بخار، جو اب اپنی نئی شکل میں انتہائی خطرناک ہوتا جا رہا ہے۔ سائنسدانوں کی نئی تحقیق کے مطابق، ’سیلمونیلا ٹائیفی‘ نامی بیکٹیریا
اسلام آباد(اوصاف نیوز) نیٹ ورک کی بندش کاروباروں کے لیے اہم چیلنجز کا باعث بنتی ہے، مالیاتی نقصان، صارفین کے اعتماد کو ٹھیس اور پیداواری صلاحیت میں خلل ڈالتی ہے ۔ کیسپرسکی کی حالیہ کی تحقیق سے پتہ چلتا ہے
دنیا بھر میں گرمی اپنا زور دکھا رہی ہے کہیں ہیٹ ویو کی صورتحال تو کہیں سورج کی تپش جھلسا دینے والی ہے۔ ایسے میں ایک صحت مند انسان تو مختلف ٹھنڈے میٹھے مشروبات کا استعمال کرکے کچھ حد تک
سائنس دانوں نے ذیا بیطس کی نئی قسم دریافت کرلی،جس کو ٹائپ 5 ذیابیطس قراردے دیا ،غذائی قلت سے تعلق رکھنے والی ذیا بیطس کی نئی قسم کو ماہرین کی جانب سے باقاعدہ طور پر تسلیم کر لیا گیا۔ ٹائپ
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)”اگر شہد کی مکھی اس کرہ زمین سے غائب ہو جائے تو انسان صرف چار سال تک زندہ رہ سکتا ہے۔“ یہ مشہور قول اکثر عظیم سائنسدان البرٹ آئن سٹائن سے منسوب کیا جاتا ہے، لیکن کیا واقعی
شہد ایک قدرتی مٹھاس رکھنے والی غذا ہے جو اپنے اندر بہت سی خوبیاں سمیٹے ہوئے ہے۔ شہد میں شکر، پروٹین، نامیاتی ایسڈز اور دیگر مرکبات کا ایسا پیچیدہ امتزاج ہوتا ہے جو صحت کے لیے مفید ثابت ہوتا ہے۔
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)غیر ملکی سائنسدانوں کو ہماری دنیا کے علاوہ ایک اور دور دراز سیارے پر زندگی کے اب تک کے سب سے بڑے آثار مل گئے۔ غیر ملکی خبر رساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق محققین کی ایک ٹیم