Search
Close this search box.
پیر ,22 جون ,2026ء

بیوٹی کوئین کا تاج ایک دن میں چھن گیا

بینکاک (نیوز ڈیسک )تھائی لینڈ کی بیوٹی سوہانی’بیبی‘نونونتھونگ سے مس گرینڈ پراچوپ کھری خان کا خطاب چھین لیا گیا ہے۔ سوہانی کاایک ایکسرےٹیڈ ویڈیو آن لائن وائرل ہونے کے بعد انھوں نے اپنا بیوٹی کوئین کا تاج ایک دن میں کھودیا ہے۔ سوہانی کو 20 ستمبر کو مس گرینڈ پراچوپ کھری خان 2026 کا تاج پہنایا گیا تھا اور وہ قومی مقابلہ میں حصہ لینے والی تھیں لیکن اس سے پہلے ان کا ایک متنازع ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہواجس سے کہرام مچ گیا۔

ویڈیو میں کیا تھا؟
سوہانی کوویڈیو میں جنسی کھلونا استعمال کرتے اور ای سگریٹ پیتے ہوئے دیکھا گیا۔ ویڈیو میں (مس گرینڈ تھائی لینڈ ایکس ریٹیڈ ویڈیو)انھوں نےگلابی رنگ کی لنجری پہن رکھی تھی۔ ویڈیومیں اس نے ایسی حرکتیں کیں جو عوامی ردعمل کا باعث بنیں۔ رپورٹس کے مطابق ان کا اونلی فینز پیج اب بھی ایکٹوہے۔


منتظمین نے چھینا تاج
اس ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد، مس گرینڈ تھائی لینڈ پیجینٹ کمیٹی نے 21 ستمبر کو ان کا تاج چھین لیا۔ کمیٹی کے بیان کے مطابق کہ موجودہ مس گرینڈ پراچوپ کھری خان 2026 میں ایسے کاموں میں ملوث تھیں جو مقابلے کی روح اور اقدار سے مطابقت نہیں رکھتی تھیں۔

 

View this post on Instagram

 

A post shared by The Thaiger (@thethaigerofficial)


سوہانی نے کیا کہا؟
سوہانی نے اعتراف کیا کہ انھوں نے ایکس ریٹیڈ کنٹنٹ بنایا تھا۔ اپنے دفاع میں، سوہانی نے کہا کہ انھوں نے یہ قدم اپنی اور اپنی بیمار ماں کی کفالت کے لیے اٹھایا، جو اب انتقال کر چکی ہیں۔ ایک فیس بک پوسٹ میں، انہوں نے لکھا کہ میں اپنے خاندان، مقابلے کے مینیجر، ٹیم، دیگر کنٹسٹنٹ ، دوستوں اور اپنے تمام سپورٹرز سے معافی مانگنا چاہتی ہوں، یہ واقعہ میرے لیے ایک سبق ہے، میں ہر کام کی ذمہ داری کو سمجھوں گی اور مستقبل میں خود کو بہتر بنانے پر توجہ دوں گی تاکہ ایسے واقعات دوبارہ نہ ہوں۔

ہوسکتی ہے جیل؟
وی این ایکسپریس کے مطابق ،اتوار کو سوہانی اور مس گرینڈ تھائی لینڈ کی صوبائی ڈائریکٹر ایک ٹی وی پروگرام میں نظر آئیں۔ پروگرام کے دوران سوہانی نے اپنے تاج کو بچانے کی التجا کی۔ ایک وکیل نے انھیں بتایا کہ انھیں اس کیس میں تین سال تک قید ہو سکتی ہے۔ سوہانی نے چونک کر کہا کہ میں جیل نہیں جانا چاہتی۔

سوہانی کا کیس نہ صرف تھائی لینڈ بلکہ پورے ایشیا میں موضوع بحث بن گیا ہے۔ یہ واقعہ کسی بھی مسابقتی ایونٹ میں پالیسیوں اور اقدار کی پاسداری کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ مزید ، سوشل میڈیا اور آن لائن پلیٹ فارمز پر شیئر کیے گئے مواد کے مدمقابل کے کیریئر اور ساکھ کے لیے سنگین نتائج ہو سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں