دبئی(نیوز ڈیسک)انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے تصدیق کی ہے کہ سال 2028 ویمنز ٹی20 ورلڈ کپ کی میزبانی پاکستان کرے گا تاہم بھارت اپنے تمام میچز غیر جانبدار مقام یعنی کسی اور ملک میں کھیلے گا۔
یہ فیصلہ دونوں ممالک کے درمیان موجودہ سفارتی تناؤ کے باعث اپنائے گئے اسی ماڈل کے تحت کیا گیا ہے جو مردوں کے بڑے ایونٹس میں بھی اختیار کیا جاتا رہا ہے۔
یہ اعلان بھارت کے شہر احمد آباد میں اتوار کو ہونے والے آئی سی سی بورڈ اجلاس کے بعد کیا گیا جس میں عالمی کرکٹ کے نظم و نسق، خواتین کی کرکٹ کے فروغ، کھیل کے قوانین میں بہتری اور بین الاقوامی مقابلوں کے ڈھانچے سے متعلق متعدد اہم فیصلے کیے گئے۔
آئی سی سی بورڈ نے چیف ایگزیکٹوز کمیٹی کی کئی سفارشات کی منظوری دی۔ ان میں ٹیسٹ میچز میں خراب روشنی کی صورت میں کھیل کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے دونوں ٹیموں کی باہمی رضامندی سے گلابی گیند کے استعمال کی آزمائش شامل ہے۔
اسی طرح آئی سی سی نے میری لیبون کرکٹ کلب (ایم سی سی) کے ساتھ مل کر روشنی کے بہتر نظام پر تحقیق اور ترقی کے منصوبے کی مشترکہ مالی معاونت کا اعلان کیا ہے تاکہ امپائرز اور گراؤنڈز کے لیے جدید لائٹنگ ٹیکنالوجی متعارف کرائی جا سکے۔
غیر قانونی باؤلنگ ایکشن کی نگرانی کے لیے میچ آفیشلز کو اب ہاک آئی ڈیٹا تک رسائی حاصل ہوگی تاکہ مشکوک بولنگ ایکشن کی رپورٹنگ مزید مؤثر بنائی جا سکے۔
کھیل کے قوانین میں تبدیلیوں کے تحت اب ہیڈ کوچ یا ان کے نامزد نمائندے کو مقررہ ڈرنکس وقفے کے دوران ٹیم سے مشاورت کی اجازت ہوگی جبکہ ٹی20 انٹرنیشنل میچز میں 15 منٹ کا لازمی وقفہ رکھا جائے گا۔ اس کے علاوہ بلے بازوں کو کھیل دوبارہ شروع ہونے پر فوری طور پر تیار رہنا ہوگا۔
آئی سی سی نے لیگ سائیڈ وائیڈ کے تجرباتی قانون کو مستقل طور پر نافذ کرنے اور یکم اکتوبر 2026 سے ایم سی سی قوانین میں مجوزہ تمام تبدیلیوں کو نافذ کرنے کی منظوری بھی دی۔
مزید پڑھیں۔اسلام آباد کے بلدیاتی انتخابات پر بڑی پیش رفت، الیکشن کمیشن نے اہم ریکارڈ طلب کرلیا



