لاہور(نیوز ڈیسک)پاکستان سپر لیگ (PSL) کے 11ویں ایڈیشن میں دو نئی ٹیموں کی شمولیت کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ کی آمدنی اور منافع میں ریکارڈ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
رانا محمود الحسن کی زیرِ صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کیبنٹ سیکریٹریٹ کے اجلاس میں پی سی بی حکام کی جانب سے پی ایس ایل 11 کے تفصیلی مالیاتی گوشوارے پیش کیے گئے۔
اس دوران یہ بتایا گیا کہ نئی ٹیموں کی شمولیت کے بعد پاکستان سپر لیگ کا مجموعی منافع تقریباً 2 ارب روپے سے بڑھ کر 7.5 ارب روپے سے زائد ہو گیا ہے۔
حکام نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ لیگ میں ٹیموں کی تعداد بڑھا کر آٹھ فرنچائزز کرنے کے فیصلے نے آمدنی کے ذرائع کو بڑھانے میں کلیدی کردار ادا کیا، جس کے باعث نشریاتی حقوق، اسپانسرشپ اور فرنچائز فیس کی مد میں تاریخی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
دستاویزات کے مطابق ٹورنامنٹ کے 11ویں ایڈیشن کے دوران کل اخراجات 2.64 ارب روپے رہے جبکہ مجموعی آمدنی 10.19 ارب روپے سے تجاوز کر گئی۔ اس طرح ٹیکس کی کٹوتی سے قبل پی سی بی کو 7.54 ارب روپے سے زائد کا خالص منافع حاصل ہوا۔
پی سی بی کی جانب سے پیش کیے گئے تقابلی اعداد و شمار کے مطابق پی ایس ایل 2025 میں تقریباً 2 ارب روپے جبکہ پی ایس ایل 2024 میں 2.46 ارب روپے کا منافع کمایا گیا تھا، جس کے مقابلے میں پی ایس ایل 11 اب تک کا سب سے کامیاب اور منافع بخش سیزن ثابت ہوا ہے۔
مزید پڑھیں۔آئندہ مالی سال میں برآمدات اور ترسیلاتِ زر بڑھنے کی توقع، درآمدات اور تجارتی خسارہ بھی بڑھ سکتا ہے

