ان دنوں واٹس ایپ کے ذریعے فراڈ کیے جا رہے ہیں، جعلساز کسی شخص کی شناخت کو استعمال کر کے ان کے دوستوں اور اہل خانہ کو مالی نقصان پہنچا رہے ہیں۔
ماہرین نے واٹس ایپ گروپ چیٹ ممبرز کے لیے ایک الرٹ جاری کیا ہے تاکہ صارفین کو واٹس ایپ آڈیو کال فراڈ سے آگاہ کیا جا سکے۔ جعلسازوں کے کام کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ فراڈ کالر گروپ چیٹ میں بطور شریک کال کرکے گروپ ممبران کو دھوکہ دینا۔
ایسے لوگ گروپ ممبران کا اعتماد حاصل کرنے کے لیے ڈسپلے نام اور پروفائل امیجز کا بھی استعمال کرتے ہیں۔ یہ دھوکہ باز واٹس ایپ پر کسی بھی شخص کی شناخت کا استعمال کرتے ہوئے ان کے خاندان اور دوستوں کو مالی نقصان پہنچاتے ہیں۔
مزید پڑھیں: پنجاب پولیس میں نوکریاں ہی نوکریاں، کیسے اور کہاں اپلائی کریں؟ جانیں
رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ پہلی بات چیت کے دوران، متاثرہ شخص سے کہا جاتا ہے کہ وہ کال پر رجسٹر ہونے کے لیے ایک بار کا پاس کوڈ (OTP) فراہم کرے۔
یہ پاس کوڈ دراصل ایک رسائی کوڈ ہے جس کے ذریعے جعلساز متاثرہ شخص کے واٹس ایپ کو نئے فون پر استعمال کرتے ہوئے ان کا اکاؤنٹ ہائی جیک کرتا ہے، لیکن دو قدمی تصدیق کے بعد متاثرہ کے اکاؤنٹ تک رسائی ناممکن ہے۔
تاہم، دھوکہ باز رابطہ فہرست میں شامل لوگوں کو میسج کر سکتا ہے جس کے بعد وہ متاثرہ کے اہل خانہ اور دوستوں سے رقم بھیجنے کو کہتا ہے۔
دریں اثنا، لوگوں کو لگتا ہے کہ ان کا کوئی دوست یا کنبہ کا فرد رقم کا مطالبہ کر رہا ہے۔ تاہم، دھوکہ دہی سے بچنے کا طریقہ یہ ہے کہ اس شخص سے رابطہ کرکے تصدیق کی جائے جس کی شناخت سے رقم مانگی گئی ہو یا اس کے خاندان سے۔
اس حوالے سے برطانیہ میں نیشنل رپورٹنگ سینٹر ایکشن فراڈ کو فراڈ اور سائبر کرائم سے متاثرہ صارفین کی سینکڑوں شکایات موصول ہوئی ہیں۔
پاکستان میں بھی ایسی شکایات سامنے آئی ہیں جن میں کسی کا سوشل میڈیا اکاؤنٹ ہیک ہو گیا ہے یا واٹس ایپ ہیک ہو گیا ہے اور لوگوں سے پیسے مانگے گئے ہیں۔
