Search
Close this search box.
اتوار ,12 جولائی ,2026ء

پی ٹی اے کے موبائل فون آئی ایم ای آئی بلاکنگ سسٹم میں سنگین خامیوں کا انکشاف

اسلام آباد( اوصاف نیوز)پاکستان ٹیلی کام اتھارٹی (پی ٹی اے) کے موبائل فون آئی ایم ای آئی بلاکنگ سسٹم میں سنگین خامیوں کا انکشاف ہوا ہے۔ ذرائع کے مطابق، ڈی آئی آر بی ایس (ڈیوائس آئیڈینٹیفیکیشن، رجسٹریشن اینڈ بلاکنگ سسٹم) میں تکنیکی خرابی کے باعث 10 لاکھ سے زائد موبائل فونز کے آئی ایم ای آئی چوری ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔

موبائل فون بنانے والی کمپنیوں نے پی ٹی اے کو اس سنگین مسئلے سے تحریری طور پر آگاہ کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، دو ہزار روپے تک کی قیمت والے لاکھوں فیچر فونز کے آئی ایم ای آئی سمگل شدہ آئی فون اور سیمسنگ فونز پر استعمال کیے گئے، جس سے لاکھوں صارفین کے آئی ایم ای آئی دو بار استعمال ہوئے اور قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان ہوا۔

پی ٹی اے کے ایک اور ذریعے نے تصدیق کی ہے کہ ڈی آئی آر بی ایس نظام کی نگرانی کرنے والی ٹیم کو صورتحال کا علم ہونے کے باوجود کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ الزام ہے کہ تکنیکی شعبے میں ایک ہی شخص کو سات سال سے توسیع دی جا رہی ہے اور وہ اپنے مفادات کے لیے کام کر رہا ہے۔

موبائل فون بنانے والی کمپنیوں کی تنظیم نے پی ٹی اے کو لکھے گئے خط میں موجودہ آئی ایم ای آئی بلاکنگ سسٹم میں سنگین خامیوں کا ذکر کیا ہے، جس کی وجہ سے ٹیکس ادا کرنے والے صارفین کے موبائل فون بھی بند ہو رہے ہیں۔ خط میں نظام کو فوری طور پر درست کرنے کی درخواست کی گئی ہے تاکہ قومی خزانے کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔

موبائل فون کمپنیوں کے سربراہان نے دعویٰ کیا ہے کہ پی ٹی اے کے تکنیکی شعبے کے اہلکاروں نے قانونی طور پر درآمد شدہ موبائل فونز کے آئی ایم ای آئی چوری کیے اور انہیں غیر قانونی طور پر درآمد شدہ مہنگے فونز پر استعمال کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ سلسلہ کئی سالوں سے جاری ہے اور پی ٹی اے کو متعدد بار آگاہ کیا گیا، لیکن کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔

ایک موبائل فون کمپنی کے سربراہ نے انکشاف کیا کہ ان کے موبائل فون ہینڈ سیٹس کے لاکھوں آئی ایم ای آئی دو بار استعمال ہوئے، جس سے قانونی طور پر درآمد شدہ فون بھی بند ہوئے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی کمپنی صارفین کو متبادل فون فراہم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ پی ٹی اے اور کسٹمز دونوں کو آئی ایم ای آئی کا ڈیٹا فراہم کیا جاتا ہے اور ان دونوں اداروں سے لاکھوں موبائل فونز کا ڈیٹا چوری ہوا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ایئرپورٹس اور دیگر ذرائع سے لاکھوں آئی فون اور سیمسنگ فونز سمگل ہو رہے ہیں اور انہیں قانونی نیٹ ورک میں لانے کے لیے پی ٹی اے کے آئی ایم ای آئی مارکیٹ میں فروخت کیے جا رہے ہیں۔

موبائل فون کمپنیوں کے نیٹ ورک کے آڈٹ سے ملکی تاریخ کا سب سے بڑا سائبر کرائم فراڈ سامنے آ سکتا ہے، جس سے قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان ہوا ہے۔ موبائل فون کمپنیوں کے سربراہان نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اس معاملے کی فوری تحقیقات کریں۔
موبائل فون کمپنیوں کی تنظیم کی طرف سے لکھے گئے خط کی کاپی بھی ساتھ میں منسلک ہے۔
سینیئر صحافی کو گرفتارکر لیا گیا

یہ بھی پڑھیں