Search
Close this search box.
بدھ ,08 جولائی ,2026ء

مودی سرکار کا ’اذان‘ پر نیا وار، مساجد کے لاؤڈ اسپیکر پر پابندی

بھارت(نیوز ڈیسک)بھارت میں نریندر مودی کی زیرِ قیادت بی جے پی حکومت نے ایک اور متنازع اقدام کے تحت ممبئی کی مساجد سے لاؤڈ اسپیکر پر اذان دینے پر عملاً پابندی عائد کر دی ہے، جسے مسلمان حلقے اپنی مذہبی آزادی پر سنگین حملہ قرار دے رہے ہیں۔

پولیس کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ ممبئی شہر کو مکمل طور پر ’لاؤڈ اسپیکرز سے پاک‘ کر دیا گیا ہے۔ ممبئی پولیس کمشنر دیوین بھارتی کے مطابق، شہر کے تمام مذہبی مقامات سے پبلک ایڈریس سسٹمز ہٹانے کی کارروائی کامیابی سے مکمل کر لی گئی ہے، ممبئی اب شور سے پاک ہو چکا ہے۔

لاؤڈ اسپیکر پر پابندی کے بعد ممبئی کی کئی مساجد اور نمازیوں نے ’آن لائن اذان‘ ایپ کے ذریعے اذان اور نماز کے اوقات معلوم کرنا شروع کر دیا ہے۔ یہ موبائل ایپ تامل ناڈو کی ایک کمپنی نے تیار کی ہے، جو اب تیزی سے ممبئی کی مساجد اور افراد میں مقبول ہو رہی ہے۔

ایپ کی خصوصیات میں پانچوں نمازوں کے اوقات کی اطلاعات، باجماعت نماز کے لیے موبائل نوٹیفکیشن اور اذان کی آواز کا موبائل پر براہِ راست اعلان شامل ہے۔

بھارتی مسلمانوں کا کہنا ہے کہ یہ پابندی ان کی آئینی مذہبی آزادی کی خلاف ورزی ہے۔ مودی حکومت پہلے ہی کئی ریاستوں میں حجاب، قربانی، مدارس، اور مساجد کے خلاف اقدامات کے ذریعے مسلمان کمیونٹی کو نشانہ بناتی رہی ہے۔ اب اذان جیسی بنیادی مذہبی پہچان کو بھی پابندیوں کا سامنا ہے۔

سوشل میڈیا پر مسلمان شہریوں اور مذہبی راہنماؤں نے اس اقدام کو آستین میں چھپی نفرت اور سیکولر بھارت کے چہرے پر دھبہ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ صرف مساجد کو نشانہ بنانا تعصب اور امتیازی رویے کی واضح علامت ہے، کیونکہ مندروں اور دیگر مقامات پر اب بھی تقریبات کے دوران لاؤڈ اسپیکر کا استعمال عام ہے۔

پی ٹی آئی کے اسیر رہنماؤں کا عمران خان کو مؤقف میں نرمی کا مشورہ، سیاسی مذاکرات پر زور

یہ بھی پڑھیں