اسلام آباد (نیوز ڈیسک)سینئر صحافی اور افغان امور کے ماہر طاہر خان نے انکشاف کیا ہے کہ حزبِ اسلامی افغانستان کے ترجمان مؤقر روزنامہ ’’شہادت‘‘ نے 14 ستمبر کے اپنے اداریے میں سابق امریکی نمائندہ برائے افغان مفاہمتی عمل زلمے خلیل زاد کو ’’افغانستان کا خفیہ صدر‘‘ قرار دے دیا ہے اور ان کی سرگرمیوں کو ’’ملک کے لیے خطرناک‘‘ قرار دیا ہے۔
طاہر خان کے مطابق روزنامہ ’’شہادت‘‘ نے لکھا ہے کہ زلمے خلیل زاد اب بھی بغیر ویزا کے افغانستان کا سفر کر رہے ہیں اور ان کی حیثیت بطور ’’افغانستان کے خفیہ صدر‘‘ بالآخر بے نقاب ہو چکی ہے۔ اخبار کا کہنا ہے کہ خلیل زاد کی حالیہ تقاریر کسی سفارت کار کی بجائے پاکستان مخالف سیاست دان کی جھلک پیش کر رہی ہیں کیونکہ ایسے بیانات افغان عوام میں مقبولیت حاصل کرتے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان کے بعض حلقے، شمالی اتحاد اور سابق جمہوری حکومتوں کے حامی اب بھی خلیل زاد کو ایک ممکنہ رہنما تصور کرتے ہیں اور یقین رکھتے ہیں کہ وہ امریکہ اور مغربی طاقتوں کی مدد سے افغانستان کو موجودہ بحران سے نکال سکتے ہیں۔ تاہم روزنامہ کے مطابق، دو طاقتور گروہ ان کی سخت مخالفت کر رہے ہیں: ایک افغان مجاہد عوام اور دوسرے حزبِ اسلامی کے مجاہدین۔
اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ خلیل زاد افغانستان کا ’’اگلا بادشاہ‘‘ بننے کی خواہش رکھتے ہیں اور خود کو افغان قرار دیتے ہیں، تاہم ان کی سرگرمیاں افغانستان کے لیے شدید نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہیں۔
Hizb e Islami #Afghanistan’s Daily Shahadat @daily_shahadat has called #Zalmay #Khalilzad as “#Afghanistan's Secret President” in Sept. 14 comments and said “Mr. Khalilzad's movements are dangerous”. The daily claims Mr. Khalilzad is still visiting Afghanistan without a visa and… pic.twitter.com/wQQBsg55Xr
— Tahir Khan (@taahir_khan) September 14, 2025
مزیدپڑھیں:پاکستان کی دوسری وکٹ 6رنز پرگر گئی


