پیرس( اوصاف نیوز)یورپی پارلیمنٹ میں افغان طالبان کے سیاسی اور عسکری مخالفین کا دو روزہ اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں افغان رجیم کی انتہا پسند پالیسیوں اور دہشتگردوں کی حمایت پر شدید تنقید اور افغانستان کی موجودہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سابق افغان رکنِ پارلیمان فوزیہ کوفی نے کہا کہ طالبان نے دوحہ مذاکرات میں کیے گئے وعدوں کو نظر انداز کرتے ہوئے افغانستان کو ایک بار پھر پرتشدد اور انتہاپسند گروہوں کا محفوظ گڑھ بنا دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ طالبان نے خواتین کو منظم طریقے سے سیاسی، سماجی اور معاشرتی زندگی سے باہر نکال کر صنفی امتیاز کو ایک مستقل نظام میں تبدیل کر دیا ہے۔
فوزیہ کوفی نے مزید کہا کہ طالبان کے دورِ حکومت میں اختلافِ رائے رکھنے والوں کے لیے کوئی جگہ نہیں رہی اور صرف ان کے حامی ہی خود کو محفوظ سمجھتے ہیں۔ اجلاس میں معروف محقق اور افغان پبلک پالیسی کے ماہر زلمئی ناشط نے خبردار کیا کہ افغانستان کا بحران اب صرف ایک انسانی مسئلہ نہیں رہا بلکہ یورپ کی سلامتی اور استحکام کے لیے بھی خطرہ بنتا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ طالبان حکومت کے تسلسل سے انتہاپسند نیٹ ورکس مزید مضبوط ہوں گے اور خطے میں تنازعات میں اضافہ ہوگا۔ یہ بھی پڑھیں:عید پر چاہت فتح علی خان کا ذومعنی گانا جاری ہوتے ہی وائرل سابق افغان کمشنر برائے انتظامی اصلاحات عالیہ یلماز نے اپنے خطاب میں کہا کہ افغان خواتین کے حقوق کا تحفظ نہ صرف ایک اخلاقی ذمہ داری ہے بلکہ یہ علاقائی امن اور مستقبل کے استحکام کے لیے بھی ایک اسٹریٹجک ضرورت ہے۔
اجلاس میں شریک عالمی ماہرین نے بھی طالبان حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات نے افغانستان کو عالمی سطح پر تنہائی کی طرف دھکیل دیا ہے، جس کا سب سے زیادہ نقصان عام شہریوں کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق طالبان کی ناکام پالیسیوں کے باعث دہشتگردی، منشیات کی معیشت اور سماجی عدم استحکام میں اضافہ ہوا ہے، جس سے افغانستان کو ایک ناکام ریاست بننے کا خطرہ لاحق ہے۔
مزید پڑھیں: امریکی طیارہ بردار بحری جہاز ایران جنگ چھوڑ کر واپس بندرگاہ کی طرف جانا شروع
