Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

ٹائٹن آبدوز حادثہ: شہزادہ داؤد اور بیٹے سلیمان کی باقیات وصول کرنے کے بعد کرسٹین داؤد کا جذباتی انکشاف

 ٹائٹن آبدوز حادثے میں اپنے شوہر شہزادہ داؤد اور بیٹے سلیمان داؤد کو کھونے والی کرسٹین داؤد نے انکشاف کیا ہے کہ حادثے کے تقریباً 9 ماہ بعد انہیں دونوں کی باقیات انتہائی محدود مقدار میں دو چھوٹے ڈبوں میں موصول ہوئیں۔

برطانوی اخبار The Guardian کو دیے گئے انٹرویو میں کرسٹین داؤد نے بتایا کہ حادثے کے بعد طویل عرصے تک لاشیں نہیں مل سکیں، اور بعد ازاں جو باقیات فراہم کی گئیں وہ شناخت کے قابل نہیں تھیں بلکہ زیادہ تر “ڈی این اے مکسچر” کی شکل میں تھیں۔

انہوں نے کہا کہ انہیں حکام کی جانب سے پیشکش کی گئی تھی کہ وہ اس مشترکہ ڈی این اے میں سے کچھ حاصل کر سکتی ہیں، تاہم انہوں نے یہ پیشکش یہ کہہ کر مسترد کر دی کہ وہ صرف واضح طور پر اپنے شوہر اور بیٹے سے منسوب باقیات ہی لینا چاہتی ہیں۔

یاد رہے کہ یہ حادثہ 18 جون 2023 کو پیش آیا تھا جب OceanGate کی زیرِ ملکیت آبدوز ٹائٹن شمالی بحرِ اوقیانوس میں ٹائٹینک کے ملبے کی جانب جاتے ہوئے تباہ ہو گئی تھی، جس میں پاکستان نژاد برطانوی بزنس مین شہزادہ داؤد (48) اور ان کے 19 سالہ بیٹے سلیمان داؤد سمیت پانچ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

مزیدپڑھیں:سعودی سائنسدانوں نے بجلی کے بغیر چلنے والا کولنگ سسٹم تیار کرلیا

کرسٹین داؤد نے اپنے انٹرویو میں بتایا کہ ان کے بیٹے سلیمان نے سفر کے دوران اپنا روبک کیوب ساتھ لیا تھا اور وہ اسے سمندر کی گہرائی میں حل کرنے کا ارادہ رکھتا تھا۔ ان کے مطابق الوداع کا لمحہ مختصر تھا، جس کے بعد یہ ان کی آخری ملاقات ثابت ہوئی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ حادثے کے وقت آبدوز سے رابطہ منقطع ہونے کے باوجود عملے کی جانب سے انہیں تسلی دی گئی تھی کہ یہ معمول کی صورتحال ہے، جس کے باعث انہیں فوری طور پر خطرے کا اندازہ نہیں ہو سکا۔

کرسٹین داؤد نے کہا کہ وہ اب بھی شدید ذہنی صدمے سے گزر رہی ہیں اور اپنے شوہر اور بیٹے کے لیے الگ الگ انداز میں غم محسوس کر رہی ہیں۔ ان کے مطابق بعض اوقات وہ جذبات کو وقتی طور پر دبا دیتی ہیں، لیکن یہ درد مسلسل موجود رہتا ہے۔

یاد رہے کہ بعد میں آنے والی تحقیقات میں اس حادثے کو قابلِ روک تھام قرار دیتے ہوئے حفاظتی اصولوں کی سنگین خلاف ورزیوں کی نشاندہی بھی کی گئی تھی، جس نے عالمی سطح پر گہرے سمندری سیاحت کے معیار اور حفاظت پر اہم سوالات کھڑے کر دیے تھے۔

یہ بھی پڑھیں