کینیڈا(Canada) کو ایک نئے سیاسی چیلنج کا سامنا ہے جہاں ملک کے اہم صوبے البرٹا میں علیحدگی سے متعلق تحریک نے شدت اختیار کر لی ہے۔ تیل اور گیس کے وسیع ذخائر کے باعث معاشی اہمیت رکھنے والا یہ صوبہ ان دنوں وفاقی حکومت کے خلاف بڑھتی ہوئی بے چینی کے باعث خبروں میں ہے۔
آزادی کے حق میں سرگرم گروپ “اسٹے فری البرٹا” نے صوبے کی کینیڈا سے علیحدگی کے لیے ریفرنڈم کرانے کی باضابطہ درخواست جمع کرا دی ہے۔ تحریک کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ انہوں نے ریفرنڈم کے لیے درکار تعداد سے کہیں زیادہ دستخط حاصل کر لیے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق قانون کے تحت ریفرنڈم کے انعقاد کے لیے تقریباً 1 لاکھ 78 ہزار رجسٹرڈ ووٹرز کے دستخط درکار تھے، جبکہ تحریک کے سربراہ مسول ویسٹر نے دعویٰ کیا ہے کہ 3 لاکھ سے زائد افراد اس مہم کی حمایت کر چکے ہیں۔
دوسری جانب معاملہ عدالت میں بھی پہنچ چکا ہے۔ “فرسٹ نیشنز” سے تعلق رکھنے والے مقامی آبائی گروپوں کی درخواست پر عدالت نے دستخطوں کی تصدیق کے عمل کو عارضی طور پر روک دیا ہے، جس کے بعد ریفرنڈم کے مستقبل پر غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق البرٹا میں ابھرتی ہوئی یہ تحریک صرف مقامی سیاست تک محدود نہیں بلکہ دنیا بھر میں بڑھتے ہوئے علاقائی خودمختاری کے رجحانات کا حصہ سمجھی جا رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ وسائل کی تقسیم، سیاسی نمائندگی اور وفاقی پالیسیوں پر اختلافات کئی ترقی یافتہ ممالک میں نئی سیاسی بحث کو جنم دے رہے ہیں۔
مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما رانا محمد اقبال خان انتقال کر گئے
اس صورتحال کے دوران بعض حلقوں میں یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا امریکی سیاست یا ڈونلڈ ٹرمپ جیسے رہنماؤں کے بیانات اس بحث پر کسی حد تک اثر انداز ہو رہے ہیں یا نہیں۔
البرٹا کی موجودہ سیاسی فضا نے ایک بار پھر وفاقی نظام، علاقائی خودمختاری اور قومی اتحاد سے متعلق عالمی سطح پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔


