روس نے ایک بار پھر واضح مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کو یورینیئم افزودگی کا پورا حق حاصل ہے اور وہ بین الاقوامی قوانین کے تحت اپنے پرامن جوہری پروگرام کو جاری رکھ سکتا ہے۔ یہ بیان روسی وزیر خارجہ سرگئی لارووف نے ماسکو میں ایک پریس کانفرنس کے دوران دیا۔
سرگئی لارووف نے کہا کہ ایران نیوکلیئر نان پرویفریشن ٹریٹی (NPT) کا رکن ہے، اس لیے اسے سول اور پرامن مقاصد کے لیے یورینیئم افزودگی کا قانونی حق حاصل ہے۔ ان کے مطابق ایران کے جوہری پروگرام کو عالمی قوانین کی روشنی میں دیکھا جانا چاہیے نہ کہ سیاسی دباؤ کے تحت۔
روسی وزیر خارجہ نے امریکا اور ایران کے درمیان جاری ممکنہ مذاکرات کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ اگر دونوں ممالک کسی بھی حل پر متفق ہو جاتے ہیں تو روس اس کی مکمل حمایت کرے گا۔
انہوں نے اپنے بیان میں یہ بھی دہرایا کہ ایران کو یورینیئم افزودگی کا پورا حق حاصل ہے اور اس حق کو کسی صورت محدود نہیں کیا جا سکتا جب تک وہ بین الاقوامی معاہدوں کی پابندی کرتا رہے۔
دوسری جانب امریکا اور اس کے اتحادی ممالک ایران کے جوہری پروگرام پر تشویش کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ یورینیئم افزودگی کی سرگرمیاں مستقبل میں جوہری ہتھیاروں کی تیاری کی صلاحیت پیدا کر سکتی ہیں۔
تاہم ایران بارہا اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہتا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام مکمل طور پر پرامن مقاصد جیسے بجلی کی پیداوار، طبی تحقیق اور سائنسی ترقی کے لیے ہے۔
روس کے حالیہ بیان نے خطے میں جاری سفارتی کشیدگی کے درمیان ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے، جبکہ ماہرین کے مطابق اس مسئلے کا حل صرف مذاکرات اور باہمی اعتماد سے ہی ممکن ہے۔
