Search
Close this search box.
هفته ,06 جون ,2026ء

امریکی جوہری بمبار اڈے کے قریب پراسرار ڈرون، سیکیورٹی حکام نے ہائی الرٹ جاری کر دیا

امریکی جوہری بمبار اڈے کے قریب پراسرار ڈرون

امریکی جوہری بمبار اڈے کے قریب پراسرار ڈرون دیکھے جانے کے بعد سیکیورٹی حکام نے ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے۔ نامعلوم ڈرون کی پرواز نے فوجی حکام کو تشویش میں مبتلا کر دیا۔

رپورٹس کے مطابق یہ ڈرون امریکا کے اہم فوجی اڈے بارکسڈیل ایئر فورس بیس کے قریب دیکھا گیا۔ اس اڈے پر جدید بی باون اسٹریٹوفورٹریس بمبار طیارے تعینات ہیں۔

واقعے کے بعد فوجی حکام نے سیکیورٹی سطح بڑھا دی۔ فورس پروٹیکشن کنڈیشن کو چارلی درجے تک بڑھایا گیا جو ممکنہ خطرے کی نشاندہی کرتا ہے۔

حکام کے مطابق امریکی جوہری بمبار اڈے کے قریب پراسرار ڈرون کی شناخت ابھی تک نہیں ہو سکی۔ اس بات کی تحقیقات جاری ہیں کہ ڈرون کون اڑا رہا تھا اور اس کا مقصد کیا تھا۔

فوجی ترجمان نے یہ بھی واضح نہیں کیا کہ ڈرون کو تحویل میں لیا گیا یا نہیں۔ تاہم سیکیورٹی ادارے واقعے کی مکمل تحقیقات کر رہے ہیں۔

یہ واقعہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ حالیہ علاقائی حالات نے عالمی سطح پر سیکیورٹی خدشات کو بڑھا دیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید جنگ میں ڈرونز اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ ماضی میں بعض ممالک نے فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے ڈرون اور میزائل استعمال کیے ہیں۔

حکام نے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی فوجی تنصیب کے اوپر بغیر اجازت ڈرون اڑانا قانوناً جرم ہے۔ اس پر بھاری جرمانہ اور قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

بی باون اسٹریٹوفورٹریس امریکی فضائیہ کے طاقتور ترین بمبار طیاروں میں شمار ہوتے ہیں۔ یہ تقریباً آٹھ ہزار آٹھ سو میل تک بغیر ایندھن بھرے پرواز کر سکتے ہیں اور ستر ہزار پاؤنڈ تک ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

سیکیورٹی ادارے اب بھی امریکی جوہری بمبار اڈے کے قریب پراسرار ڈرون کے واقعے کی مکمل تحقیقات کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں