ایران ابراہم لنکن میزائل حملہ کے دعوے کے بعد آبنائے ہرمز میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ ایران نے کہا ہے کہ اس نے امریکی طیارہ بردار بحری جہاز کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کی فوجی تنظیم پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا کہ ایران ابراہم لنکن میزائل حملہ بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے کیا گیا۔
ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ کارروائی امریکا اور اسرائیل کے حالیہ حملوں کے جواب میں کی گئی۔ بعض رپورٹس میں بتایا گیا کہ ایران کی جانب سے چار بیلسٹک میزائل فائر کیے گئے۔
دوسری جانب امریکی حکام نے ایران ابراہم لنکن میزائل حملہ کے دعوے کو مسترد کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکی طیارہ بردار جہاز کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔
امریکی حکام کے مطابق میزائل جہاز کے قریب تک بھی نہیں پہنچ سکے اور بحری جہاز خطے میں اپنی فوجی کارروائیاں معمول کے مطابق جاری رکھے ہوئے ہے۔
آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتی ہے۔ اس علاقے میں کسی بھی فوجی واقعے سے خطے میں کشیدگی تیزی سے بڑھ سکتی ہے۔


