Search
Close this search box.
هفته ,06 جون ,2026ء

آبنائے ہرمز میں نیا بحری راستہ، ایرانی اجازت کے بغیر گزر ناممکن

آبنائے ہرمز نیا بحری راستہ

آبنائے ہرمز نیا بحری راستہ عالمی سطح پر اہم خبر بن گیا ہے، کیونکہ اس راستے سے گزرنے کے لیے ایران کی اجازت لازمی قرار دی گئی ہے۔

بین الاقوامی ذرائع کے مطابق یہ نظام غیر رسمی بحری نگرانی کے تحت چلایا جا رہا ہے، جو بظاہر خاموشی سے نافذ ہو رہا ہے۔

یہ راستہ ایرانی ساحل کے قریب واقع ہے اور جزیرہ لارک اور جزیرہ قشم کے درمیان سے گزرتا ہے، جو اب ایک اہم گزرگاہ بنتا جا رہا ہے۔

پاکستانی تیل بردار جہاز اس راستے سے گزر چکے ہیں، جس سے اس کی عملی اہمیت مزید واضح ہو گئی ہے۔

نئے نظام کے تحت جہازوں کو تہران سے سیاسی منظوری لینا ہو گی، تاکہ وہ محفوظ انداز میں سفر مکمل کر سکیں۔

عالمی بیمہ کمپنیاں اور بینک اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں، کیونکہ بغیر اجازت جہازوں کی نقل و حرکت خطرناک ہو سکتی ہے۔

بھارت، ترکی اور دیگر ممالک نے بھی ایران سے محفوظ گزرگاہ کی درخواست کی ہے، تاکہ خطے میں بحری خطرات کم کیے جا سکیں۔

ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت عالمی سپلائی نظام پر اثر ڈال سکتی ہے، خاص طور پر تیل کی ترسیل پر۔

یہ بھی پڑھیں