Search
Close this search box.
جمعه ,05 جون ,2026ء

ایران کے حملوں کے بعد تیل کی قیمتوں میں اضافہ، مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھ گئی

ایران کے حملوں کے بعد تیل کی قیمتوں میں اضافہ

ایران کے حملوں کے بعد تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے جس سے عالمی منڈی میں تشویش بڑھ گئی ہے۔ خلیجی خطے میں کشیدگی کے باعث سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

برینٹ خام تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ہوا اور یہ ایک سو بارہ ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گئی۔ امریکی خام تیل کی قیمت بھی بڑھ کر ستانوے ڈالر کے قریب ہو گئی۔

یہ اضافہ اس وقت ہوا جب ایران نے مشرق وسطیٰ میں توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ یہ کارروائی جنوبی پارس گیس فیلڈ پر حملے کے بعد سامنے آئی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے حملوں کے بعد تیل کی قیمتوں میں اضافہ اس لیے ہوا کیونکہ منڈی میں سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔

قطر کی توانائی کمپنی نے بتایا کہ راس لفان میں واقع ایل این جی مرکز کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ یہ حملہ عالمی توانائی نظام کے لیے بڑا دھچکا ہے۔

سعودی عرب نے بھی میزائل اور ڈرون حملوں کو ناکام بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کشیدگی پورے خطے میں پھیل رہی ہے۔

ایران نے حملوں سے پہلے خلیجی ممالک میں تیل کی تنصیبات سے انخلا کی وارننگ بھی جاری کی۔ یہ اقدام جوابی کارروائی کے طور پر کیا گیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ جنوبی پارس پر حملہ اسرائیل نے کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ اور قطر اس کارروائی میں شامل نہیں تھے۔

امریکی مرکزی بینک نے شرح سود برقرار رکھی لیکن مہنگائی بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا۔ ماہرین کے مطابق جنگ کے اثرات معیشت پر پڑ سکتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر کشیدگی برقرار رہی تو ایران کے حملوں کے بعد تیل کی قیمتوں میں اضافہ جاری رہ سکتا ہے۔

آبنائے ہرمز کی صورتحال بھی اہم ہے کیونکہ یہ عالمی تیل کی ترسیل کا بڑا راستہ ہے۔ کسی بھی رکاوٹ سے قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

رپورٹس کے مطابق امریکہ مشرق وسطیٰ میں مزید فوج بھیجنے پر غور کر رہا ہے تاکہ تیل بردار جہازوں کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔

صورتحال ابھی غیر یقینی ہے اور آئندہ دنوں میں مزید تبدیلیاں متوقع ہیں۔

یہ بھی پڑھیں