Search
Close this search box.
هفته ,06 جون ,2026ء

آبنائے ہرمز کی بندش پر روس کا انتباہ، عالمی تیل منڈی کو خطرہ

آبنائے ہرمز کی بندش

آبنائے ہرمز کی بندش نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ روس نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش سے تیل اور گیس کی عالمی ترسیل متاثر ہو سکتی ہے۔

روسی وزارت خارجہ نے اتوار کو بیان میں کہا کہ اگر یہ اہم بحری راستہ بند رہا تو عالمی منڈی میں بڑا عدم توازن پیدا ہو سکتا ہے۔

دنیا کا تقریباً بیس فیصد تیل اسی راستے سے گزرتا ہے۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، عراق، کویت اور ایران کا تیل اسی گزرگاہ سے عالمی منڈیوں تک پہنچتا ہے۔

قطر کی بڑی مقدار میں مائع قدرتی گیس بھی اسی راستے سے منتقل ہوتی ہے۔

تجارتی ذرائع کے مطابق کئی آئل ٹینکر مالکان اور توانائی کمپنیاں اس راستے سے تیل، ایندھن اور گیس کی ترسیل عارضی طور پر روک چکی ہیں۔ یہ فیصلہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد کیا گیا۔

روسی وزارت خارجہ نے ایران کے سپریم رہنما آیت اللہ علی خامنہ ای اور ان کے اہل خانہ کی ہلاکت کی خبروں پر بھی گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔

بیان میں کہا گیا کہ سیاسی قتل اور خودمختار ریاستوں کے رہنماؤں کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

روس نے فوری طور پر کشیدگی کم کرنے، لڑائی روکنے اور سفارتی مذاکرات کی طرف واپس آنے کا مطالبہ کیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز کی بندش جاری رہی تو عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے اور کئی ممالک کو توانائی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں