Search
Close this search box.
بدھ ,08 جولائی ,2026ء

پٹرول سستا ہونے کے باوجود گھی اور تیل کی قیمت میں کمی نہ آ سکی

لاہور: گھی اور تیل کی قیمت میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی کے باوجود کوئی ریلیف نہیں دیا گیا، جس پر شہریوں اور دکانداروں نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ عوام کا کہنا ہے کہ جب پٹرول مہنگا ہوا تو خوردنی اشیاء فوری مہنگی کر دی گئیں، مگر اب پٹرول سستا ہونے کے باوجود قیمتیں کم نہیں کی جا رہیں۔

مارکیٹ ذرائع کے مطابق فرسٹ گریڈ گھی اور خوردنی تیل کی قیمت، جو پہلے 560 روپے فی کلو یا لیٹر تھی، اب بڑھ کر 610 روپے تک پہنچ چکی ہے۔ اسی طرح دوسرے درجے کے گھی اور تیل کی قیمت بھی تقریباً 550 روپے فی کلو برقرار ہے۔

کِرانہ مرچنٹس ایسوسی ایشن کے صدر سقلین بٹ کا کہنا ہے کہ پٹرول مہنگا ہونے کے بعد گھی اور تیل کی قیمت میں مرحلہ وار اضافہ کیا گیا تھا، تاہم اب جبکہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی آ چکی ہے، قیمتیں واپس کم نہیں کی جا رہیں۔ انہوں نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ گھی مل مالکان کی اجارہ داری ختم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

دوسری جانب ایل پی جی صارفین بھی مہنگی گیس خریدنے پر مجبور ہیں۔ اگرچہ سرکاری نرخ 241 روپے فی کلو مقرر ہیں، مگر مختلف علاقوں میں ایل پی جی 350 سے 380 روپے فی کلو تک فروخت کی جا رہی ہے۔ سوئی گیس کے کم پریشر اور قلت کے باعث ایل پی جی کی طلب میں اضافہ ہوا ہے، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بعض عناصر منافع خوری کر رہے ہیں۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ ایک طرف وہ سوئی گیس کے بھاری بل ادا کرتے ہیں، جبکہ دوسری طرف گھریلو ضروریات پوری کرنے کے لیے مہنگی ایل پی جی خریدنے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ سرکاری نرخوں پر ایل پی جی کی دستیابی یقینی بنائی جائے اور ناجائز منافع خوروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے تاکہ عوام کو حقیقی ریلیف مل سکے۔

یہ بھی پڑھیں