Search
Close this search box.
منگل ,07 جولائی ,2026ء

آٹے کی قیمت کم کرنے کیلئے سندھ حکومت متحرک، ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت کارروائی کا حکم

کراچی: آٹے کی قیمت میں استحکام لانے اور شہریوں کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے سندھ حکومت نے اہم اقدامات کا فیصلہ کر لیا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت ہونے والے صوبائی کابینہ کے اجلاس میں گندم کی صورتحال، ذخیرہ اندوزی اور فوڈ ڈیپارٹمنٹ میں اصلاحات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ مالی سال 2026-27 کے دوران سندھ کو تقریباً 15 لاکھ 90 ہزار ٹن گندم کی کمی کا سامنا ہے، جبکہ اوپن مارکیٹ میں گندم کی قیمت سرکاری امدادی نرخ سے بھی تجاوز کر چکی ہے، جس کے باعث آٹے کی قیمت میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے مصنوعی قلت پیدا کرنے والے عناصر اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف فوری کارروائی کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ عوامی مفاد پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ گندم ذخیرہ کرکے آٹے کی قیمت بڑھانے والوں کے خلاف قانون کے مطابق سخت ایکشن لیا جائے۔

کابینہ اجلاس میں فوڈ ڈیپارٹمنٹ کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ اس مقصد کے لیے گندم کی خریداری، ذخیرہ، ترسیل اور نگرانی کے پورے نظام کو مرحلہ وار ڈیجیٹلائز کیا جائے گا تاکہ شفافیت میں اضافہ ہو اور بدانتظامی کا خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔

اجلاس میں جدید انٹیگریٹڈ ویٹ مینجمنٹ سسٹم متعارف کرانے، نجی شعبے کی شمولیت بڑھانے اور فوڈ ڈیپارٹمنٹ کو پالیسی سازی، نگرانی اور غذائی تحفظ پر مرکوز جدید ادارہ بنانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔

اس موقع پر وفاق کی مجوزہ نیشنل ویٹ پالیسی 2026-2030 کا بھی جائزہ لیا گیا۔ سندھ کابینہ نے اس پالیسی پر سفارشات تیار کرنے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دے دی، جو مقررہ مدت میں اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔

حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد گندم کی دستیابی کو بہتر بنانا، ذخیرہ اندوزی کی روک تھام کرنا اور مستقبل میں آٹے کی قیمت کو مستحکم رکھنا ہے تاکہ عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں