اسلام آباد: پیٹرول کی اصل قیمت سے متعلق سامنے آنے والی تازہ تفصیلات نے ایک بار پھر ایندھن کی قیمتوں پر بحث چھیڑ دی ہے۔ سرکاری نرخوں میں معمولی کمی کے باوجود عوام اب بھی پیٹرول اور ڈیزل پر مختلف ٹیکسوں، لیویز اور دیگر چارجز کی مد میں اضافی رقم ادا کر رہے ہیں۔
دستیاب اعداد و شمار کے مطابق ملک میں اس وقت پیٹرول 297.53 روپے فی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 309.50 روپے فی لیٹر فروخت ہو رہا ہے۔ تاہم پیٹرول کی ایکس ریفائنری قیمت صرف 179.47 روپے فی لیٹر ہے، جس کے بعد مختلف حکومتی لیویز، ڈیوٹیز، فریٹ چارجز، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور ڈیلرز کے مارجن شامل کر کے صارفین سے موجودہ قیمت وصول کی جا رہی ہے۔
تفصیلات کے مطابق پیٹرول پر پیٹرولیم لیوی، پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی، کلائمیٹ سپورٹ لیوی، کسٹمز ڈیوٹی، فریٹ مارجن، آئل کمپنیوں کا مارجن اور ڈیلرز کا مارجن شامل کیا جاتا ہے۔ مجموعی طور پر ایک لیٹر پیٹرول پر تقریباً 94.69 روپے مختلف ٹیکسوں اور چارجز کی مد میں وصول کیے جا رہے ہیں، جبکہ اس پر جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) بدستور صفر ہے۔
اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کی ایکس ریفائنری قیمت 199.06 روپے فی لیٹر ہے، مگر مختلف لیویز اور مارجن شامل ہونے کے بعد اس کی فروختی قیمت 309.50 روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہے۔ ڈیزل پر مجموعی ٹیکس اور دیگر سرکاری وصولیاں تقریباً 91.56 روپے فی لیٹر بنتی ہیں۔
گھریلو استعمال میں آنے والے مٹی کے تیل (کیروسین) کی موجودہ قیمت 231.14 روپے فی لیٹر ہے جبکہ اس کی ایکس ریفائنری قیمت 200.91 روپے ہے۔ اس پر بنیادی طور پر پیٹرولیم لیوی، فریٹ اور کمپنی مارجن شامل کیے جاتے ہیں، جبکہ جی ایس ٹی اس پر بھی لاگو نہیں۔
دوسری جانب لائٹ ڈیزل کی قیمت 195.42 روپے فی لیٹر مقرر ہے، جبکہ اس کی ایکس ریفائنری قیمت 172.67 روپے فی لیٹر ہے۔ اس پر بھی پیٹرولیم لیوی، فریٹ اور کمپنی مارجن وصول کیا جا رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں تبدیلی، حکومتی ٹیکس پالیسی اور مختلف لیویز مقامی مارکیٹ میں ایندھن کی قیمتوں پر براہ راست اثر انداز ہوتی ہیں۔ اسی وجہ سے پیٹرول کی اصل قیمت اور صارفین سے وصول کی جانے والی حتمی قیمت میں نمایاں فرق دیکھا جاتا ہے۔


