Search
Close this search box.
هفته ,06 جون ,2026ء

ریاض میں امریکی سفارتخانے پر حملہ، ڈرون حملے سے آگ بھڑک اٹھی، کوئی جانی نقصان نہیں

ریاض میں امریکی سفارتخانے پر حملہ

ریاض میں امریکی سفارتخانے پر حملہ منگل کی صبح اس وقت ہوا جب دو ڈرونز نے عمارت کو نشانہ بنایا۔ سعودی وزارت دفاع کے مطابق عمارت میں معمولی آگ لگی لیکن کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

حکام کا کہنا ہے کہ سفارتخانہ صبح کے وقت خالی تھا۔ اسی وجہ سے کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔

سعودی فضائی دفاعی نظام نے کئی ڈرونز کو فضا میں ہی تباہ کر دیا۔ وزارت دفاع کے مطابق ریاض اور الخرج کے قریب آٹھ ڈرون مار گرائے گئے۔

ریاض میں امریکی سفارتخانے پر حملہ ایسے وقت میں ہوا جب خلیجی خطے میں کشیدگی بڑھ رہی ہے۔ ایران کی جانب سے مختلف ممالک کی طرف میزائل اور ڈرون حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔

امریکی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے ایران کے متعدد فوجی اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔ ان میں میزائل مراکز اور ڈرون تنصیبات شامل ہیں۔

قطر اور متحدہ عرب امارات نے بھی میزائل حملوں کو روکنے کی تصدیق کی ہے۔ کویت میں بھی امریکی سفارتخانے کے قریب ڈرون حملے کی اطلاع ملی تھی۔

سعودی عرب نے اپنی فوجی تیاری کو مکمل الرٹ پر رکھا ہوا ہے۔ توانائی تنصیبات کے قریب بھی سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔

امریکی صدر نے کہا کہ جنگ کچھ وقت لے سکتی ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم نے بھی کہا کہ یہ جنگ طویل عرصے تک نہیں چلے گی۔

ایران نے خبردار کیا ہے کہ وہ خاموش نہیں رہے گا اور اپنی دفاعی صلاحیت برقرار رکھے گا۔

ریاض میں امریکی سفارتخانے پر حملہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ تنازعہ مزید پھیل رہا ہے۔ خطے میں حالات تیزی سے بدل رہے ہیں اور عالمی رہنما جنگ بندی کی اپیل کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں