Search
Close this search box.
هفته ,06 جون ,2026ء

اسرائیل کا لبنان میں سفید فاسفورس حملہ، ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ میں سنگین انکشاف

اسرائیل کا لبنان میں سفید فاسفورس حملہ

اسرائیل کا لبنان میں سفید فاسفورس حملہ ایک نئی رپورٹ کے بعد عالمی سطح پر تشویش کا باعث بن گیا ہے۔ ہیومن رائٹس واچ نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے آبادی والے علاقوں میں سفید فاسفورس استعمال کیا۔

تنظیم کے مطابق تصدیق شدہ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ 3 مارچ کو یوہمر کے رہائشی علاقے کے اوپر سفید فاسفورس کے گولے فائر کیے گئے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان گولوں کے باعث کم از کم دو گھروں میں آگ بھڑک اٹھی۔ یہ مکانات شہری آبادی کے درمیان واقع تھے۔

ہیومن رائٹس واچ کے لبنان سے متعلق محقق رمزی کعیس نے کہا کہ آبادی والے علاقوں میں اس ہتھیار کا استعمال انتہائی تشویشناک ہے۔

ان کے مطابق سفید فاسفورس آکسیجن کے ساتھ رابطے میں آتے ہی فوراً جلنے لگتا ہے۔ اس وجہ سے یہ گھروں، زرعی زمینوں اور دیگر شہری املاک میں آگ لگا سکتا ہے۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ اس نے کئی تصاویر اور ویڈیوز کی جغرافیائی تصدیق بھی کی ہے۔ ان میں دکھایا گیا ہے کہ توپ خانے کے ذریعے رہائشی علاقوں کے اوپر سفید فاسفورس کے گولے فائر کیے گئے۔

دوسری جانب لبنان میں اسرائیلی حملوں کے باعث صورتحال کشیدہ ہے۔

رپورٹس کے مطابق اب تک اسرائیلی فضائی حملوں میں 394 افراد شہید جبکہ ایک ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔

ان حملوں کے باعث لاکھوں افراد اپنے گھروں کو چھوڑ کر محفوظ مقامات کی جانب نقل مکانی کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

ہیومن رائٹس واچ نے امریکا، برطانیہ اور جرمنی سمیت اسرائیل کے اتحادی ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل کو اسلحے کی فراہمی معطل کریں۔

تنظیم نے اس معاملے کی آزادانہ تحقیقات کرانے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں