ایمسٹرڈیم میں یہودی اسکول کے قریب دھماکہ ہفتہ کی صبح پیش آیا جس سے عمارت کو معمولی نقصان پہنچا۔ حکام کے مطابق اس واقعے میں کوئی شخص زخمی نہیں ہوا۔
شہر کے جنوبی حصے میں واقع ایک رہائشی علاقے میں دھماکہ ہوا۔ اطلاع ملتے ہی پولیس اور فائر بریگیڈ کی ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں۔
شہر کی میئر نے اس واقعے کو یہودی برادری کے خلاف جان بوجھ کر کیا گیا حملہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسا لگتا ہے کہ اس کارروائی میں یہودی ادارے کو نشانہ بنایا گیا۔
ایمسٹرڈیم میں یہودی اسکول کے قریب دھماکہ اگرچہ شدید نوعیت کا نہیں تھا لیکن عمارت کو محدود نقصان پہنچا۔ حکام نے فوری طور پر علاقے کو گھیرے میں لے کر صورتحال کو قابو میں کر لیا۔
نیدرلینڈز میں یہودی عبادت گاہوں اور اداروں کی سکیورٹی پہلے ہی سخت کر دی گئی تھی۔ اس سے ایک رات پہلے روٹرڈیم میں ایک عبادت گاہ کو آگ لگانے کی کوشش بھی کی گئی تھی۔
حکام کے مطابق پولیس اس بات کی تحقیقات کر رہی ہے کہ آیا یہ دونوں واقعات آپس میں منسلک ہیں یا نہیں۔
اس سے قبل بیلجیم کے شہر لیئج میں بھی ایک عبادت گاہ کے قریب دھماکے کے بعد آگ لگ گئی تھی جس کے بعد یورپ میں سکیورٹی ادارے مزید چوکس ہو گئے ہیں۔
میئر نے اس واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہودی برادری کے خلاف اس طرح کے حملے ناقابل قبول ہیں۔
پولیس کے مطابق واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور جلد مزید معلومات سامنے لائی جائیں گی۔


