ایران نے خطے کے ممالک کو خبردار کیا ہے کہ امریکا ممکنہ طور پر ایک مبینہ فالس فلیگ کارروائی کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق اس کارروائی میں شاہد ڈرونز کی نقل استعمال کیے جانے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایران نے امریکا پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ایرانی ساختہ شاہد ڈرونز کی نقل تیار کر کے کسی کارروائی میں استعمال کرسکتا ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ اس طرح کی کارروائی کے ذریعے تہران پر الزام عائد کرنے کی کوشش کی جاسکتی ہے۔
ایران نے خطے کے ممالک کو خبردار کیا ہے کہ وہ موجودہ حالات میں محتاط رہیں اور کسی بھی مشتبہ فوجی سرگرمی پر نظر رکھیں۔ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے باعث صورتحال پہلے ہی حساس سمجھی جا رہی ہے۔
دوسری جانب سوئٹزرلینڈ نے ایران جنگ کے تناظر میں امریکی فوجی پروازوں پر پابندی کا اعلان کردیا ہے۔ حکام کے مطابق جو امریکی پروازیں براہ راست جنگ سے متعلق ہوں گی انہیں ملک کی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
سوئس حکام کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ ملک کی دیرینہ غیر جانبداری کی پالیسی کے تحت کیا گیا ہے تاکہ سوئٹزرلینڈ کسی بھی مسلح تنازع میں فریق نہ بنے۔
ادھر سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران تنازع ختم کرنے کے لیے معاہدہ کرنا چاہتا ہے، تاہم اب تک ایران کی پیش کردہ شرائط قابل قبول نہیں ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران اب تک امریکا کی شرائط قبول کرنے کے لیے تیار نہیں جبکہ امریکا فوجی اور معاشی طور پر ایران کو شکست دے چکا ہے۔
ایرانی صدر نے بھی اس موقع پر کہا کہ جو تباہی ہوئی ہے اسے پہلے سے بہتر انداز میں دوبارہ تعمیر کیا جائے گا اور ملک مشکلات کے باوجود آگے بڑھتا رہے گا۔


